امریکا کا غزہ میں جنگ بندی کیلئے اسرائیلی وزیر پر دباؤ ڈالنے کا منصوبہ

مصر کے وزیر خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ قاہرہ غزہ کے لیے ایک نئے مجوزہ معاہدے پر کام کر رہا ہے

واشنگٹن ڈی سی (انٹرنیشنل ڈیسک): اسرائیل کے وزیر برائے اسٹریٹجک امور رون دیرمر، جو ان دنوں واشنگٹن کے دورے پر ہیں، کو غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر امریکا کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ترک خبر رساں ادارے ’انادولو‘ نے ’ٹائمز آف اسرائیل‘ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ جنگ بندی کے حوالے سے سب سے بڑی رکاوٹ حماس کا یہ مطالبہ ہے کہ اسرائیل غزہ میں اپنے فوجی آپریشنز کو مکمل طور پر بند کرے، جبکہ اسرائیل صرف عارضی جنگ بندی پر آمادہ ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر دوبارہ کارروائی شروع کی جا سکے۔

اسرائیلی اخبار ’ہارتز‘ کے مطابق، وائٹ ہاؤس کے سینئر حکام رون دیرمر پر زور دیں گے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کریں اور باقی اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے حماس سے معاہدہ کریں۔ امریکی حکام کی جانب سے یہ پیغام بھی دیا جائے گا کہ حماس کو مکمل طور پر ختم کرنے کی اسرائیلی پالیسی کو وقتی طور پر مؤخر کیا جا سکتا ہے۔

ادھر اسرائیلی اخبار ’یدیعوت آحارونوت‘ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی حالیہ بیانات سے عندیہ ملتا ہے کہ وہ اب حماس کے مکمل خاتمے کے بجائے یرغمالیوں کی بازیابی کو پہلی ترجیح دے رہے ہیں، جو ان کی پالیسی میں ممکنہ تبدیلی کی نشاندہی ہے۔

علاوہ ازیں، مصر کے وزیر خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ قاہرہ غزہ کے لیے ایک نئے مجوزہ معاہدے پر کام کر رہا ہے، جس کے تحت 60 روزہ جنگ بندی کے بدلے کچھ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں انسانی امداد کی فوری فراہمی شامل ہوگی۔

امریکی حکام کی کوشش ہے کہ رون دیرمر کو اس بات پر قائل کیا جائے کہ زمینی آپریشن روک کر سفارتی راہ اختیار کی جائے، تاکہ خطے میں کشیدگی میں کمی اور قیدیوں کے تبادلے کے امکانات پیدا کیے جا سکیں۔

مزید خبریں

Back to top button