اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت پاکستان کے سپرد
پاکستان کی یہ سلامتی کونسل میں آٹھویں بار نمائندگی ہے

اسلام آباد / نیویارک (ویب ڈیسک): پاکستان نے ایسے وقت میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھال لی ہے جب دنیا متعدد تنازعات، جغرافیائی کشیدگیوں اور کثیرالجہتی نظام پر بڑھتے ہوئے شکوک و شبہات کا سامنا کر رہی ہے۔
یہ علامتی مگر اسٹریٹجک نوعیت کی صدارت ایک نہایت حساس اور پیچیدہ عالمی پس منظر میں پاکستان کو ملی ہے، جس کی عالمی سطح پر اہمیت اجاگر ہو رہی ہے۔
پاکستان کی یہ سلامتی کونسل میں آٹھویں بار نمائندگی ہے، جب کہ 2013 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کو کونسل کی صدارت کا موقع ملا ہے۔ پاکستان نے جنوری 2025 میں دو سالہ مدت کے لیے غیر مستقل رکن کے طور پر اپنی موجودہ نمائندگی کا آغاز کیا تھا، جو 2026 کے اختتام تک جاری رہے گی۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے روزنامہ ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک غیر معمولی عالمی ماحول میں اس اہم ذمہ داری کا آغاز کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا اس وقت شدید غیر یقینی صورتحال، بڑھتے ہوئے بین الاقوامی تنازعات اور تزویراتی کشیدگی کا شکار ہے، جس کے باعث عالمی امن و سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ عالمی تنازعات کے پرامن حل، مکالمے اور سفارتی عمل کا حامی رہا ہے اور ہم اپنے اسی اصولی مؤقف کے ساتھ سلامتی کونسل کے معاملات کو آگے بڑھائیں گے۔ ان کے مطابق پاکستان کی ترجیح شفافیت، شمولیت اور مؤثر سفارتی حکمت عملی کو فروغ دینا ہوگی۔
اگرچہ سلامتی کونسل کی صدارت ماہانہ بنیاد پر گھومتی ہے اور اس کے پاس براہِ راست انتظامی اختیارات نہیں ہوتے، تاہم کونسل کے ایجنڈے پر اثرانداز ہونے اور اس کی سمت طے کرنے میں یہ صدارت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ایسے وقت میں جب سلامتی کونسل غزہ اور یوکرین جیسے عالمی بحرانوں پر جمود کا شکار ہے، پاکستان کی یہ قیادت عالمی برادری کے لیے خصوصی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔
سفیر عاصم افتخار نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان تمام رکن ممالک کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے اجتماعی فیصلوں کی راہ ہموار کرے گا جو اقوامِ متحدہ کے منشور اور عالمی امن کے اصولوں کے عین مطابق ہوں گے۔



