اسرائیلی جارحیت میں امداد کے متلاشی 21 افراد سمیت 43 فلسطینی شہید
یہ سانحہ اس وقت پیش آیا جب سینکڑوں افراد خوراک لینے کے لیے جمع تھے

غزہ (ویب ڈیسک): غزہ میں جاری اسرائیلی درندگی کے باعث انسانی جانوں کا ضیاع جاری ہے، فجر کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں اور امداد کی تقسیم کے دوران پیش آنے والے سانحات میں کم از کم 43 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں 21 وہ افراد شامل ہیں جو امداد کے حصول کے لیے قطاروں میں کھڑے تھے۔
عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ نے طبی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں غزہ ہیومنٹیرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف) کے امدادی مرکز پر پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں کم از کم 15 فلسطینی دم گھٹنے اور بھگدڑ کے باعث جاں بحق ہوئے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، یہ سانحہ اس وقت پیش آیا جب سینکڑوں افراد خوراک لینے کے لیے جمع تھے اور وہاں آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی، جس سے خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ ایک دوسرے پر گرنے لگے۔
دوسری جانب، المواسی کے علاقے میں اسرائیلی فوج نے بے گھر فلسطینیوں کے ایک کیمپ پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں مزید 9 افراد شہید ہوئے۔
غزہ ہیومنٹیرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف) نے خان یونس میں پیش آنے والے واقعے کا الزام حماس سے وابستہ عناصر پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امدادی مرکز میں افرا تفری اور بھگدڑ کے دوران 19 افراد کچلے گئے، جب کہ ایک شہری کو چاقو کے وار سے قتل کیا گیا۔
جی ایچ ایف کے ترجمان کے مطابق، ہجوم میں بعض مسلح افراد نے دانستہ طور پر افراتفری پھیلائی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس شواہد موجود ہیں کہ ہجوم میں حماس سے تعلق رکھنے والے افراد موجود تھے، جنہوں نے صورت حال کو مزید خراب کیا۔
ترجمان نے دعویٰ کیا کہ مرکز میں آتشیں اسلحہ بھی دیکھا گیا، جب کہ ایک امریکی امدادی کارکن کو بھی ہجوم میں ایک شخص نے اسلحہ دکھا کر دھمکایا۔
واضح رہے کہ جی ایچ ایف کو مئی میں قیام کے بعد سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان کے مطابق، اس کے قیام کے بعد اب تک اس کے مراکز یا آس پاس امداد کے حصول کے دوران پیش آنے والے واقعات میں 800 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
غزہ میں جاری انسانی بحران میں امداد لینے کے لیے جمع ہونے والے افراد کی اموات نے ایک بار پھر بین الاقوامی برادری کی بے حسی اور اسرائیلی جارحیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔



