تھرپارکر اور عمرکوٹ کے ہزاروں رہائشیوں کے حقِ رائے دہی کے تحفظ کے لیے ایم پی اے سریندر ولاسائی کا چیف الیکشن کمشنر کو خط

بجلی کے بل کے بجائے گزٹڈ افسر یا منتخب نمائندے کی تصدیق کو رہائش کا ثبوت تسلیم کرنے کی اپیل

تھرپارکر (رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) سندھ اسمبلی کے رکن سریندر ولاسائی نے پاکستان کے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھ کر ضلع تھرپارکر اور عمرکوٹ میں برسوں سے مقیم ہزاروں شہریوں کے آئینی حقِ رائے دہی کے تحفظ کے لیے اہم مطالبہ کیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران قحط، موسمیاتی تبدیلی، بے روزگاری اور روزگار کے محدود مواقع کے باعث ہزاروں خاندان اپنے آبائی دیہات چھوڑ کر مٹھی، ڈیپلو، اسلام کوٹ، چھاچھرو، کلوئی، نگرپارکر، چیلہار اور عمرکوٹ سمیت مختلف شہروں میں مستقل طور پر آباد ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود بڑی تعداد میں شہری اب تک اپنی موجودہ رہائش گاہ کے پتے پر ووٹر کے طور پر رجسٹرڈ نہیں ہو سکے۔ سریندر ولاسائی نے اپنے خط میں نشاندہی کی کہ متعدد خاندانوں کے پاس بجلی کے بل موجود نہیں، کیونکہ بعض علاقوں میں بجلی کی سہولت ہی دستیاب نہیں، جبکہ بہت سے افراد نے شمسی توانائی (سولر سسٹم) اختیار کر کے قومی گرڈ سے اپنا رابطہ ختم کر دیا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں بجلی کا بل رہائش کے ثبوت کے طور پر پیش کرنا ان کے لیے ممکن نہیں۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے درخواست کی کہ ایک مرتبہ کے لیے خصوصی اور آسان طریقۂ کار اختیار کیا جائے، جس کے تحت گزٹڈ افسر، منتخب عوامی نمائندے یا کسی مجاز سرکاری ادارے کی جانب سے جاری کردہ رہائشی سرٹیفکیٹ یا حلف نامے کو رہائش کا قابلِ قبول ثبوت تسلیم کیا جائے، تاکہ حقدار شہری آسانی سے اپنے قومی شناختی کارڈ پر پتہ تبدیل کرا کر ووٹر فہرستوں میں اپنا اندراج کروا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام سے ہزاروں شہریوں کے آئینی حقِ رائے دہی کا تحفظ ممکن ہوگا، جمہوری عمل مزید مضبوط ہوگا اور بلدیاتی سمیت دیگر انتخابات میں عوام کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

مزید خبریں

Back to top button