ایران جنگ جنوری 2029ء تک جاری رہنے کا خدشہ، امریکی حکام نے ٹرمپ کو خبردار کردیا

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) وال سٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ جنوری 2029ء تک بھی طول پکڑ سکتی ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلیٰ مشیروں نے تنازع کے طویل ہونے کے خدشات سے انہیں آگاہ کردیا ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران امریکی فوجی دباؤ، بحری ناکہ بندی اور اقتصادی پابندیوں کے باوجود مزاحمت جاری رکھ سکتا ہے، جس کے باعث جنگ کا اختتام ٹرمپ کی موجودہ مدتِ صدارت تک بھی مؤخر ہوسکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے بھی تیاری شروع کردی ہے۔ بعض امریکی فضائی دفاعی یونٹس کی تعیناتی 2027ء تک بڑھانے کے منصوبے زیرِغور ہیں، جبکہ مزید میرین فورسز اور جنگی طیاروں کی خطے میں گردش بھی جاری رکھنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

وال سٹریٹ جرنل کے مطابق مشرق وسطیٰ میں تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں، جبکہ فضائی دفاعی یونٹس خلیجی ممالک میں میزائل اور ڈرون حملوں سے دفاع کے لیے تعینات ہیں۔ امریکی حکام خطے میں مزید بحری اور فضائی اثاثوں کی تعیناتی کے امکانات بھی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے میزائل حملوں اور آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے نتیجے میں خلیجی توانائی تنصیبات اور عالمی بحری تجارت کو خطرات برقرار رہ سکتے ہیں۔

طویل جنگ کے نتیجے میں عالمی تیل منڈیوں میں مزید عدم استحکام پیدا ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ حالیہ کشیدگی کے دوران تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہونے سے عالمی توانائی سپلائی کے خدشات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے عوامی طور پر جنگ کے جلد خاتمے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنازع نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہوسکتا ہے، تاہم ان کے اعلیٰ مشیروں کی جانب سے طویل جنگ کے خدشات اس مؤقف سے مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button