خامنہ ای ماسکو میں زیر علاج،ٹرمپ کا ذہنی توازن بری طرح متاثر

تہران/واشنگٹن(جانوڈاٹ پی کے)مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ ٹرمپ انتظامیہ کی توقعات کے بالکل برعکس طویل ہوتی جا رہی ہے، جس کے باعث امریکی صدر کا ذہنی توازن اور اعصاب بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ ابنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے دنیا بھر سے مدد مانگ رہے ہیں، لیکن ان کے اتحادی (جاپان اور آسٹریلیا سمیت) مدد دینے سے صاف انکار کر چکے ہیں۔ ناکامی کے بعد، ٹرمپ نے اب چین کو براہِ راست دھمکی دی ہے کہ اگر بیجنگ نے ہرمز کے معاملے پر امریکہ کی مدد نہیں کی تو وہ رواں ماہ کے آخر میں متوقع اپنے دورہِ چین کو منسوخ یا مؤخر کر دیں گے۔ ٹرمپ اس جنگ میں اپنی "فیس سیونگ” (Face-saving) کے لیے کسی بیرونی مداخلت کے منتظر ہیں۔
دوسری جانب ایسی اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زخمی حالت میں روس میں موجود ہیں۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہیں فضائی حملے کے بعد علاج کے لیے ماسکو لے جایا گیا ہے جہاں ولادیمیر پوتن کے صدارتی محل میں ان کا آپریشن ہوا ہے۔ تاہم، ان اطلاعات کی باضابطہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایک خصوصی ٹویٹ میں پاکستان کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے مشکل گھڑی میں ایران کی حمایت اور یکجہتی کے اظہار پر پاکستان کی تعریف کی، جسے مبصرین پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
مزید تفصیلات کے لیے معروف تجزیہ کار امداد سومرو کا یہ وی لاگ ملاحظہ کریں




