ایران نے میری درخواست پر 8 خواتین کی سزائے موت پر عمل روک دیا، 4 کو فوری رہا کیا جائے گا: ٹرمپ کا دعویٰ

واشنگٹن(جانوڈاٹ پی کے)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایرانی حکومت نے ان کی درخواست پر 8 خواتین کی سزائے موت پر عمل روک دیا ہے۔

اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری پیغام میں ٹرمپ نے لکھا کہ انہیں ابھی بتایا گیا ہے کہ جن 8 خواتین کو آج رات سزائے موت دی جانی تھی انہیں اب سزائے موت نہیں دی جائے گی۔

ٹرمپ نے کہا کہ ان میں 4 خواتین کو فوری رہا کیا جائے گا جبکہ 4 کو ایک ماہ کی قید کے بعد رہا کردیا جائے گا۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ وہ اس امر کو سراہتے ہیں کہ ایرانی قیادت نے بطور امریکی صدر ان کی اس درخواست کا احترام کیا اور ان خواتین کی سزائے موت کو ختم کردیا۔

خیال رہےکہ گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر 8 خواتین کی تصویر شیئر کرتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

اسرائیل کے حمایتی ایک ایکٹوسٹ کی پوسٹ شیئر کرتےہوئے ٹرمپ نے ایرانی رہنماؤں کے نام پیغام لکھا کہ ’یہ ایران کے رہنماؤں کے نام، جو جلد ہی میرے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہونے والے ہیں، میں ان خواتین کی رہائی کو بہت سراہوں گا۔ مجھے یقین ہے کہ آپ اس بات کا احترام کریں گے ، براہِ کرم انہیں کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے، ان خواتین کی رہائی مذکرات کا بہترین آغاز ہوگا‘۔

ٹرمپ کی جاری کردہ تصاویر میں صرف ایک خاتون کی شناخت ہوسکی تھی  جو رواں برس حکومت مخالف مظاہرے میں شریک تھی جبکہ دیگر کے بارے میں معلومات سامنے نہيں آسکیں۔

امریکی میڈيا کے مطابق ان 8 خواتین کے ایران میں قید ہونے کی آزادانہ طور پر تصدیق بھی نہيں ہو سکی۔ دوسری جانب ایرانی عدلیہ کی جانب سے 8 خواتین کو پھانسی کی سزا دیے جانےکی تردید کی گئی تھی۔

فرانسیسی خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی عدلیہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکی صدرکو ایک بار پھر جعلی خبروں سےگمراہ کیا گیا، جن خواتین کی پھانسی کی بات کی گئی، ان میں سے کچھ رہا ہوگئی ہیں، دیگر خواتین پر جو الزامات ہیں ان میں سزا سنائی بھی گئی تو قید کی ہوگی۔

مزید خبریں

Back to top button