جنگ کا نیا رخ: امریکی پسپائی، ڈرون حملے اور ایران-اسرائیل کشیدگی

لاہور( خصوصی نشست) امریکہ اب ایران میں "ریژیم چینج” (حکومت کی تبدیلی) کے لیے زمینی فوج (Boots on the Ground) اتارنے سے کترانے لگا ہے۔ امریکہ کو خدشہ ہے کہ وہ ایک ایسی دلدل میں پھنس سکتا ہے جس سے نکلنا مشکل ہو جائے گا۔ جزیرہ خارک پر حملوں کے باوجود، امریکہ اب تک ایران کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کرنے سے گریز کر رہا ہے تاکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ نہ ہو۔
سینئر تجزیہ کار سید عمران شفقت نے اپنے تازہ ترین پروگرام میں مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال اور پاکستان پر اس کے اثرات کے حوالے سے 999 ٹیم کے ساتھ ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا جس میں سب سے سنسنی خیز نکتہ پاکستان کے مختلف علاقوں، بالخصوص خیبر پختونخوا (KPK) میں ہونے والے ڈرون حملوں کا ذکر ہے۔ بتایا گیا ہے کہ کوہاٹ اور لکی مروت میں ڈرون گرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جبکہ پولیس چوکیوں پر مسلسل ڈرون حملے کیے جا رہے ہیں۔ یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں لوگوں کے پاس اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی موجود ہے جبکہ پولیس کو ان جدید حملوں کا مقابلہ کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور انٹیلیجنس ڈرون حملوں اور سرحد پار سے ہونے والی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ اس جنگ سے اچانک پیچھے ہٹتا ہے تو یہ اس کی بڑی ناکامی تصور کی جائے گی، جبکہ ایران کا خطے میں اثر و رسوخ مزید بڑھ سکتا ہے۔
مکمل گفتگو ملاحظہ فرمائیں:




