شی جن پنگ کا دورہ امریکا، تائیوان کو اسلحے کی فروخت روکنے کا مطالبہ متوقع

لندن(ویب ڈیسک) چینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تائیوان کو امریکی اسلحے کی فروخت روکنے کیلئے دباؤ ڈالنے کا امکان ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق شی جن پنگ رواں ہفتے واشنگٹن کے دورے کے دوران 1982ء کے امریکا، چین مشترکہ اعلامیے کا حوالہ دیتے ہوئے تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق دونوں صدور کی ملاقات سے قبل ہونے والی بات چیت میں چین کی جانب سے 1982ء کے تیسرے مشترکہ اعلامیے کی اپنی تشریح پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ اعلامیے میں امریکا نے تائیوان کو اسلحے کی فروخت بتدریج کم کرنے اور طویل مدت میں ہتھیاروں کی فراہمی ختم کرنے کی جانب پیش رفت کا اظہار کیا تھا۔ تاہم امریکی مؤقف کے مطابق اس معاملے کی اپنی قانونی اور پالیسی تشریح بھی موجود ہے۔
چین گزشتہ برسوں کے دوران تائیوان کے گرد اپنی فوجی سرگرمیوں میں اضافہ کر چکا ہے، جن میں فوجی مشقیں اور میزائل سرگرمیاں بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب امریکا تائیوان کی دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے کیلئے اسلحہ فراہم کرتا رہا ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ آج واشنگٹن پہنچنے والے ہیں، جہاں جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کے باضابطہ مذاکرات متوقع ہیں، جبکہ جمعے کو نیشنل آرکائیوز کے دورے کا امکان ہے۔



