سندھ اسمبلی میں صوبے کی کسی بھی قسم کی تقسیم کے خلاف قرارداد متفقہ منظور

کراچی(جانوڈاٹ پی کے)سندھ اسمبلی نے سندھ کی کسی بھی قسم کی تقسیم کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔
سندھ اسمبلی میں تحریک التوا پر چوتھے روز مباحثے کے بعد پی پی کے رکن نثار کھوڑو نے ایوان میں اسپیکر اویس قادر شاہ کی اجازت کے بعد قرارداد پیش کی۔
قرارداد پیش کرنے سے قبل وزیراعلیٰ نے تقریر کی تو اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے اراکین نے واک آؤٹ کیا جس کے بعد نثار کھوڑو نے اسپیکر سے قرارداد پیش کرنے کی اجازت طلب کی۔
نثار کھوڑو نے قرارداد پیش کی تو ایوان میں پیپلزپارٹی کے 105 اراکین موجود تھے جبکہ اپوزیشن کا ایک بھی رکن ایوان میں نہیں تھا۔
قرارداد میں کہا گیا کہ سندھ تاریخی دھرتی اور ناقابل تقسیم ہے، سندھ نے قیام پاکستان کی قراداد منظور کی، سندھ کی اسمبلی نے پاکستان میں شمولیت قراداد منظور کی تھی۔ قراداد میں کہا گیا کہ سندھ میں کسی قسم کی تقسیم کو ایوان رد کرتا ہے، سندھ کی موجودہ حدود میں کوئی بھی تبدیلی نہیں ہوگی، سندھ ایک ہے ہمیشہ ایک رہے گا۔
قرراد کی منظوری پر پیپلزپارٹی کے اراکین بینچوں پر ہاتھوں میں ’سندھ دھرتی ماں‘ کے بینرز ہاتھوں میں لے کر کھڑے ہوئے اور نعرے بازی بھی کی۔
قبل ازیں ایوان سے خطاب میں قائد حزب اختلاف علی خورشیدی نے کہا کہ یہ قرارداد ڈھکوسلہ ہے، پورا ایوان نثار کھوڑو کو تحریک التوا پر مبارکباد دے رہا ہے، سمجھ نہیں آ رہی کس بات کی مبارکباد دی جا رہی ہے؟ انہوں نے کہا یہ ایوان بار سندھ کی تقسیم کو مسترد کر چکا ہے پھر بار بار پیپلز پارٹی کو یہ قرارداد کیوں لانی پڑتی ہے؟ میرے ایک رکن نے کہا کہ ہم سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے چار دنوں سے تقاریر کیوں ہو رہی ہیں؟ ان کی کارکردگی صفر ہے۔
علی خورشیدی نے الزام لگایا کہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ سندھ کی حامی صرف پیپلز پارٹی ہے اور باقی سب سندھ کے دشمن ہیں یہ تاثر بالکل غلط ہے بد انتظامی سب سے زیادہ سندھ میں ہے یہ اپنی ذہنی اختراع نکال رہے ہیں اس قرارداد پر بحث ہونی ہی نہیں چاہے تھی فضول کی بحث چھیڑی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کا مطالبہ سندھ کی تقسیم نہیں بلکہ اختیارات کی تقسیم ہے ہم نے کہا تھا نئے انتظامی یونٹ بنیں سندھ کے 6 ڈویژن انتظامی یونٹ ہیں اٹھارویں ترمیم کی روح کے مطابق ان کو بااختیار کریں آپ کی جمہوریت وفاق سے صوبے میں آکر ختم ہو جاتی ہے۔
قائد حزب اختلاف نے سابقہ ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سندھ اسمبلی کے 102 ارکان میں سے 98 نے ون یونٹ کے حق میں ووٹ دیا تھا فیصلہ ہوتا ہے، تاریخ طے کرتی ہے۔علی خورشیدی نے کہا کہ کھڑے ہو کر قرارداد پیش کرنا ڈھکوسلہ ہے۔ ان کے وزیروں کے پاس اختیار نہیں ہیں۔ ہم کہتے ہیں صوبے کو بہتر بناؤ۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کا موقف بڑا واضح ہے کہ سندھ کی تقسیم نہیں ہونی چاہیے، ایم کیو ایم تھی، ایم کیو ایم ہے اور ایم کیو ایم رہے گی ایم کیو ایم کی تجاویز شامل کیوں نہیں ہوئیں؟ ایم کیو ایم کے رکن نے موقف دیا کہ ہماری پیش کردہ تجاویز میں ایک لفظ بھی غلط نہیں تھا۔ پیپلز پارٹی کے بیانیے کی نظر سے بھی دیکھا جائے تو ہماری تجاویز میں کوئی غلط بات نہیں تھی۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہماری بات سنی نہیں گئی۔ اگر جمہوری رویہ ہوتا تو ہماری تجاویز پر ضرور بات کی جاتی۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی قراردادوں اور تحاریک التوا کے ذریعے اپنی بیڈ گورننس کو چھپانے کی کوش کرتی ہے سندھ کے عوام کو سیاسی نعروں کے ذریعے گمراہ کرنے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے۔ ہم ایسی قرارداد کو قبول نہیں کرتے اور اسی لیے اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔
اس کے بعد علی خورشیدی سمیت ایم کیو ایم کے تمام اراکین نے ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔
اس موقع پر شرجیل میمن نے کہا کہ ان لوگوں نے تاریخی موقع پر فلور چھوڑا۔ انہوں نے کہا کہ علی خورشیدی کا واک آؤٹ پہلے سے طے شدہ حکمت عملی کا حصہ تھا وہ تاریخی دن پر ووٹنگ میں شامل نہیں ہونا چاہتے تھے ایم کیو ایم نے بہانہ بنا کر اسمبلی کا فلور چھوڑ دیا۔ تاریخ گواہ رہے گی کہ تاریخی موقع پر ایم کیو ایم نے تاریخی قرارداد کا حصہ بننے سے خود کو دور کر لیا۔
شرجیل میمن نے پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا جس طرح پی ٹی آئی نے آج بائیکاٹ کیا، ایم کیو ایم بھی واک آؤٹ کر کے ایوان سے باہر چلی گئی۔ گزشتہ روز پی ٹی آئی اراکین کہہ رہے تھے وہ قرارداد کی حمایت نہیں کریں گے۔ آج پی ٹی آئی کا موقف سندھ کے سامنے واضح ہوگیا۔ جماعت اسلامی کا موقف بھی آج سندھ کے عوام کے سامنے بے نقاب ہوگیا۔ اسپیکر نے ایم کیو ایم اراکین سے واک آؤٹ نہ کرنے کی اپیل بھی کی لیکن اراکین ایوان سے باہر چلے گئے۔
سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو میں علی خورشیدی نے کہا ہے کہ سندھ انتظامی طور پر تباہ ہو چکا ہے اور صوبے میں نظام نہیں چل رہا، اجلاس کے دوران نثار کھوڑو کی جانب سے تحریک التوا پیش کی گئی ہماری بات درست تھی لیکن حکومت کی جانب سے کوئی ڈھنگ کی بات نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ جب سندھ کی تقسیم کے حوالے سے قرارداد پیش ہو چکی ہے تو پیپلز پارٹی کیوں لسانی تفریق پیدا کرنا چاہتی ہے؟ ہم سندھ میں انتظامی یونٹس اور مالیاتی خود مختاری کی بات کر رہے ہیں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کرنا ہوگی تاکہ عام پاکستانی کو ریلیف مل سکے لیکن اس پر بات کرنے کے بجائے پیپلز پارٹی نے نئے صوبوں کا "منجن” دے دیا ہم نے اسپیکر سے کہا تھا کہ اس معاملے پر بحث نہ کرائی جائے کیونکہ اس سے تفریق پیدا ہوگی لیکن جان بوجھ کر پیپلز پارٹی نے اس پر بحث کروائی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کون چاہتا ہے کہ یہ نظام حکومت چلے؟ ایم کیو ایم نے انہیں بے نقاب کر دیا ہے کون چاہتا ہے کہ سندھ کی تقسیم ہو؟ یہ اس جرم کے مرتکب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صوبے میں نظام نہیں چل رہا بچوں کی تعلیم سمیت کوئی سہولت موجود نہیں۔ یہ صوبہ انتظامی طور پر ناکام ہو چکا ہے ہم انتظامی یونٹس کو مالی طور پر بااختیار بنانے کی بات کر رہے ہیں۔



