اسرائیلیوں نے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا،سعدایدھی نے کراچی پہنچ کر سب احوال بتادیئے

کراچی(جانوڈاٹ پی کے)غزہ امدادی قافلے “صمود فلوٹیلا” میں شامل سعد ایدھی وطن واپس پہنچ گئے، اسرائیلی فوج کی حراست سے رہائی کے بعد سعد ایدھی جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ سعد ایدھی کی اہلیہ اورکمسن بیٹی نے بھی ایئرپورٹ پران کااستقبال کیا۔
سعد ایدھی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کاسفر14مئی کو شروع ہوا تھااورغزہ سے200ناٹیکل مائل دوراسرائیلی فوج نے انہیں بین الاقوامی سمندر میں گرفتار کیا۔انہوں نے کہا کہ قافلے میں180افراد شامل تھے اور2راتیں بحری جہاز پر گزریں جبکہ35افراد زخمی ہوئے اور15افراد کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔سعد ایدھی کے مطابق کھانے میں صرف ڈبل روٹی اور پانی دیا جاتا تھا۔
سعد ایدھی نے کہا کہ ان پر تشدد کیا گیا اور 3روز بعد اسرائیل پہنچنے پر بھی غیر انسانی سلوک جاری رہا۔انہیں جیل میں بند رکھا گیا جہاں معلوم نہیں تھا کہ کب رہائی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ سیل میں بند کر دیا گیا،بھوک ہڑتال کی اور صرف پانی پی کرصبر کیا۔انہوں نے کہا کہ غزہ کیلئے ان کا مشن غیر مسلح اور انسانی امداد پر مبنی تھااور وہ بھوک کے شکارمظلوم فلسطینی عوام اور بچوں تک خوراک اور ادویات پہنچانا چاہتے تھے۔
سعد ایدھی کے مطابق اسرائیلی اہلکار لیزر لائٹس مارتے تھے تاکہ وہ سو نہ سکیں جبکہ قید خانے کے فرش پر پانی ڈال دیاجاتا تھا۔سعد ایدھی نے بتایا کہ انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا اورکئی گھنٹے گھٹنوں کے بل بٹھاکر مارا جاتا تھا۔انہوں نے کہا کہ جن افراد کے پاس امریکی یا یورپی پاسپورٹس نہیں تھے،ان پر زیادہ تشدد کیا جاتا تھاجبکہ جوامریکی اپنی حکومت کے خلاف بولتے تھے،انہیں بھی نشانہ بنایا جاتا تھا۔



