یوکرین تنازع میں پاکستان ثالثی کی تجویز دے تو روس غور کرے گا، روسی سفیر

پاکستان میں روسی سفیر البرٹ پی خورئیو نے کہا ہے کہ یوکرین تنازع میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہیں، روس کے دیگر دوست ممالک کی طرح اگر پاکستان یوکرین تنازع میں ثالثی کرانا چاہیے تو روس اس کی تجویز پر غور کرے گا، اگر پاکستان اور افغانستان رضامند ہوں تو روس ان کے درمیان ثالثی کروا سکتا ہے۔

اسلام آباد میں روسی سفارت خانے میں یوکرین وار-بیانڈ دی ہیڈ لائنز کی تقریب رونمائی سے خطاب میں روسی سفیر البرٹ پی خورئیو نے کہا کہ یوکرین تنازع پر متوازن مؤقف اختیار کرنے پر پاکستانی قیادت کے لیے دلی قدر و تحسین کا اظہار کرتا ہوں، ہم اس طرز عمل جو اکثر مثبت غیر جانب دار کہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم بین الاقوامی حالات و واقعات کے بارے میں پاکستان کے آزادانہ جائزے مذاکرات کے لیے پاکستان کے عزم اور فہم کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ توانائی، زرعی مصنوعات اور کھادوں کے ایک قابل اعتماد فراہم کنندہ اور بطور خطے کے اہم شراکت دار روس اپنے پاکستانی دوستوں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کو تیار ہے۔

روسی سفیر نے کہا کہ برازیل، چین اور روس کے دیگر دوست ممالک کی طرح اگر پاکستان یوکرین تنازع میں ثالثی کرانا چاہیے تو روس اس کی تجویز پر غور کرے گا، اگر پاکستان اور افغانستان رضامند ہوں تو روس ان کے درمیان ثالثی کروا سکتا ہے۔

قبل ازیں تقریب رونمائی سے خطاب میں مقررین نے پاکستان کے امریکا و مغرب نواز ہونے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 60 کی دہائی میں سرد جنگ کے عروج پر امریکا اور مغرب کی چین کی سخت مخالفت کے باوجود پاکستان نے چین کا ساتھ دیا۔

مقررین نے کہا کہ دنیا بطور ثالث و سہولت کار پاکستان کے کردار کو سراہتی ہے امریکا اور مغرب کے روس کے حوالے سے معیارات دہرے ہیں، یورپ میں جنگ اور توانائی کے بحران ایشیا اور افریقہ کو براہ راست متاثر کرے گا۔

تقریب رونمائی میں مہمانوں کو کتاب کو اعزازی نقول اور اعزازات سے نوازا گیا۔

مزید خبریں

Back to top button