پشاور اسکول حادثے کے بعد بڑا اقدام، خیبر پختونخوا میں نجی اسکولوں کی عمارتوں کی جانچ کا حکم

محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کی جانب سے اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کے کلاس روم کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے کے بعد کیا گیا ہے، جس کا مقصد طلبہ اور تدریسی عملے کو ممکنہ حادثات سے محفوظ رکھنا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹیاں صوبے بھر میں نجی اسکولوں کی عمارتوں کی ساختی مضبوطی، موجودہ حالت اور تعلیمی سرگرمیوں کے لیے موزونیت کا تفصیلی جائزہ لیں گی۔ معائنے کے دوران چھتوں، دیواروں، ستونوں، بیم، بنیادوں، سیڑھیوں اور عمارت کے دیگر تعمیراتی حصوں کی حالت جانچی جائے گی۔
کمیٹیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ معائنے کے نتائج کی بنیاد پر اسکولوں کی عمارتوں کو تین زمروں میں تقسیم کیا جائے: محفوظ عمارتیں، مرمت کی متقاضی عمارتیں اور ممکنہ طور پر غیر محفوظ عمارتیں۔ اس درجہ بندی سے ان عمارتوں کی نشاندہی کی جائے گی جہاں فوری اصلاحی اقدامات ضروری ہیں۔
محکمہ تعلیم کے مطابق خطرناک عمارتوں میں ضروری مرمت، تعمیراتی مضبوطی اور بحالی کے اقدامات تجویز کیے جائیں گے۔ جہاں فوری خطرہ موجود ہو، وہاں متعلقہ ضلعی حکام کو بلا تاخیر آگاہ کیا جائے گا۔ ضرورت پڑنے پر عمارت تک رسائی محدود کرنے یا اس کا استعمال معطل کرنے کی سفارش بھی کی جاسکے گی۔
نوٹیفکیشن کے تحت تشکیل دی گئی کمیٹیوں کی سربراہی ضلعی مانیٹرنگ افسر کرے گا، جبکہ محکمہ تعلیم کے متعلقہ افسران اور محکمہ مواصلات و تعمیرات کا نمائندہ بھی ان میں شامل ہوگا۔ مختلف محکموں کی شمولیت کا مقصد عمارتوں کا مؤثر معائنہ اور تعمیراتی نقائص کی بروقت نشاندہی یقینی بنانا ہے۔
محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے کمیٹیوں کو نوٹیفکیشن کے اجرا کے تین دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ رپورٹ میں عمارتوں کی موجودہ صورت حال، حفاظتی خامیوں اور ضروری اصلاحی اقدامات سے متعلق سفارشات شامل ہوں گی۔



