ایران امریکہ کشیدگی کے اثرات، پاکستان کی خلیجی ممالک کو برآمدات میں 70 فیصد تک بڑی کمی

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگی کشیدگی کے عالمی معاشی اثرات اب پاکستان تک بھی پہنچنے لگے ہیں، جس کے باعث مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی ممالک کو پاکستانی برآمدات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
وزارتِ تجارت کی دستاویزات کے مطابق پاکستان کی جی سی سی (GCC) ممالک کو برآمدات میں مارچ کے دوران 70 فیصد تک کمی دیکھنے میں آئی، جو ایک غیر معمولی اور تشویشناک رجحان قرار دیا جا رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2025 میں پاکستان کی خلیجی ممالک کو برآمدات 31 کروڑ 51 لاکھ امریکی ڈالر سے زائد تھیں، جو مارچ 2026 میں کم ہو کر 9 کروڑ 54 لاکھ ڈالر رہ گئیں۔ اسی طرح اپریل میں بھی برآمدات میں 23 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی، جہاں اپریل 2025 میں برآمدات 20 کروڑ ڈالر تھیں جبکہ اپریل 2026 میں یہ کم ہو کر 15 کروڑ 24 لاکھ ڈالر رہ گئیں۔
رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ کمی متحدہ عرب امارات کو ہونے والی برآمدات میں دیکھی گئی، جو 74 فیصد تک گر گئیں۔ سعودی عرب کو برآمدات میں 56 فیصد، قطر میں 64 فیصد، عمان میں 85 فیصد جبکہ کویت اور بحرین کو بھی نمایاں کمی کا سامنا کرنا پڑا۔
وزارتِ تجارت کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث سمندری اور فضائی راستے متاثر ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں لاجسٹکس میں تاخیر اور ٹرانسپورٹیشن لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر متحدہ عرب امارات کا لاجسٹکس نظام متاثر ہونے سے پاکستان کی برآمدی سرگرمیوں پر براہِ راست اثر پڑا ہے، کیونکہ پاکستان کی خلیجی تجارت کا بڑا حصہ جبل علی پورٹ کے ذریعے ہوتا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگر خطے کی صورتحال جلد بہتر نہ ہوئی تو پاکستان کی برآمدی آمدن اور تجارتی توازن پر مزید دباؤ بڑھ سکتا ہے۔



