"فائنل سپارک "خوفناک سائنسی معجزہ؟ سلیکون چپس کی جگہ سو دن دھڑکتے "انسانی خلیات” سے بنے کمپیوٹرز!

نہال معظم:
تصور کیجیے کہ اگر آپ کے لیپ ٹاپ، اسمارٹ فون یا دنیا بھر کی معلومات کے امین بڑے بڑے ڈیٹا سینٹرز میں سلیکون کی بے جان چپس کے بجائے انسانی دماغ کے زندہ خلیات دھڑک رہے ہوں اور سوچ رہے ہوں تو کیا یہ کسی خوفناک سائنس فکشن فلم کا منظر معلوم نہیں ہوتا؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سوئٹزرلینڈ کے ایک سٹارٹ اپ ‘فائنل اسپارک’ نے اس تخیل کو حقیقت کا روپ دے کر کائنات کے سب سے پیچیدہ شاہکار یعنی انسانی دماغ کو ایک ‘بایو کمپیوٹر’ میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہ محض ایک سائنسی تجربہ نہیں بلکہ اس صدی کا وہ سب سے بڑا موڑ ہے جہاں مشین اور انسان کی تفریق ختم ہونے جا رہی ہے اور ہم ایک ایسے عہد میں داخل ہو رہے ہیں جہاں ہارڈ ویئر اب بے جان دھات نہیں رہا بلکہ وہ سانس لے رہا ہے اور بڑھ رہا ہے۔ آج جب دنیا مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے جنون میں مبتلا ہے اور چیٹ جی پی ٹی جیسے ماڈلز کو چلانے کے لیے بجلی کے سمندر پیے جا رہے ہیں وہاں یہ بایو پروسیسرز ایک ایسی خاموش بغاوت کے طور پر ابھرے ہیں جو ٹیکنالوجی کے ڈھانچے کو جڑ سے ہلا کر رکھ دیں گے۔ سائنسی ماہرین نے لیبارٹری میں انسانی اسٹیم سیلز کی مدد سے دماغ کے چھوٹے چھوٹے ٹشوز تیار کیے ہیں جنہیں ‘آرگنائڈز’ کہا جاتا ہے جو محض گوشت کے لوتھڑے نہیں بلکہ زندہ اور فعال پروسیسرز ہیں جو الیکٹروڈز کے ذریعے کمپیوٹر سے جڑے ہوتے ہیں اور برقی سگنلز کی صورت میں معلومات وصول کر کے ویسے ہی ردعمل دیتے ہیں جیسے ایک جیتا جاگتا انسانی دماغ کام کرتا ہے۔ لیکن یہاں سب سے بڑا اور دہلا دینے والا سوال ان خلیات کے انتخاب اور ان کی فراہمی کا ہے؛ آخر یہ خلیات کن شرائط کے تحت حاصل کیے جائیں گے؟ کیا مستقبل میں مر جانے والے ذہین ترین سائنسدانوں یا غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل انسانوں کے خلیات کو ان مشینوں کا حصہ بنا کر انہیں ایک ‘ڈیجیٹل جلاوطنی’ میں رکھا جائے گا؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ انسان کے ہر ایک خلیے میں اس کی مکمل بائیو پروگرامنگ اور جینیاتی یادداشت موجود ہوتی ہے، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم کسی انسان کی شخصیت کے جوہر کو ایک چپ میں قید کر رہے ہیں؟ یہیں سے ان اخلاقی حدود کا تعین کرنا مشکل ہو جاتا ہے جہاں ہم قدرت کے وضع کردہ موت اور زندگی کے قانون کو چیلنج کرنے لگتے ہیں۔
انسانی تاریخ میں پہلی بار ہم ایک ایسی دہلیز پر کھڑے ہیں جہاں سلیکون کی بے جان دنیا کو حیاتیاتی زندگی سے بدلا جا رہا ہے اور اس سنسنی خیز پیشرفت کے پیچھے سب سے بڑی منطق توانائی کا وہ خوفناک بحران ہے جس نے پوری زمین کے ماحول کو داؤ پر لگا رکھا ہے۔ ایک طرف دنیا کے سب سے طاقتور سپر کمپیوٹرز اور اے آئی سسٹم ہیں جنہیں ٹھنڈا رکھنے اور چلانے کے لیے پورے پورے شہروں کی بجلی درکار ہوتی ہے اور دوسری طرف قدرت کا وہ شاہکار ہے جو صرف بیس واٹ کے ایک ہلکے سے بلب جتنی توانائی پر کائنات کے پیچیدہ ترین فیصلے کر لیتا ہے جس کی بنیاد پر محققین کا دعویٰ ہے کہ یہ بایو پروسیسرز روایتی ڈیجیٹل چپس کے مقابلے میں دس لاکھ گنا کم توانائی خرچ کرتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار کسی معجزے سے کم نہیں کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل کے ڈیٹا سینٹرز خاموش، ٹھنڈے اور حیرت انگیز طور پر کم خرچ ہوں گے لیکن ان کی کارکردگی انسانی شعور کی طرح تیز اور موثر ہوگی۔ تاہم یہ سفر اتنا آسان نہیں ہے کیونکہ جہاں زندگی ہے وہاں موت بھی ہے اور ان زندہ کمپیوٹرز کا سب سے بڑا چیلنج ان کی وہی مختصر زندگی ہے جو کبھی محض چند گھنٹوں پر محیط تھی لیکن اب سائنسدانوں نے انہیں سو دنوں تک زندہ رکھنے کا فن سیکھ لیا ہے اور یہ سو دن ٹیکنالوجی کی تاریخ کے وہ یادگار دن ہیں جہاں ایک مشین زندہ رہتی ہے، سوچتی ہے اور پھر فنا ہو جاتی ہے۔ اس تصور نے اخلاقی سوالات کی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا ہم انسانی شعور کے حصوں کو محض مشینوں کے پرزوں کے طور پر استعمال کر کے قدرت کے نظام میں مداخلت نہیں کر رہے اور کیا وہ زندہ ٹشوز جو کمپیوٹر کے اندر نصب ہیں کسی قسم کا درد یا احساس محسوس کرتے ہوں گے؟ اگر کسی سائنسدان کے خلیات سے بنا کمپیوٹر اس کی موت کے بعد بھی ‘سوچ رہا’ ہے تو کیا ہم نے اسے ابدی زندگی دے دی ہے یا یہ اس کی روح اور مادی وجود کے ساتھ ایک بھیانک مذاق ہے؟
ان تمام سوالات کے باوجود ‘فائنل اسپارک’ نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے اپنا یہ ‘نیورو پلیٹ فارم’ دنیا بھر کے محققین کے لیے کھول دیا ہے تاکہ وہ کرایے پر ان زندہ دماغوں سے کام لے سکیں اور بادلوں کے پار کسی لیبارٹری میں دھڑکتے ہوئے انسانی خلیات سے اپنے پیچیدہ سوالات کے حل مانگ سکیں۔ یہ ایک ایسی ڈیجیٹل دنیا کا آغاز ہے جہاں ڈیٹا سینٹرز گوشت اور خون کے ان زندہ خلیات کے ذریعے پوری دنیا کا نظام چلائیں گے اور ہمیں یہ احساس تک نہیں ہوگا کہ اسکرین کے پیچھے موجود ذہانت محض کوڈنگ نہیں بلکہ انسانی خلیات کی حیاتیاتی طاقت ہے جو شاید مصنوعی عقل سے زیادہ ذہین اور سلیکون سے زیادہ پائیدار ہے۔ یہ ‘خوفناک سائنسی معجزہ’ ہمیں ایک ایسے مستقبل کی طرف لے جا رہا ہے جہاں ٹیکنالوجی اب انسانی زندگی کا حصہ نہیں بلکہ انسان خود ٹیکنالوجی کا ایک زندہ پرزہ بننے جا رہا ہے۔



