بدین: نریڑی جھیل کی تباہی کے خلاف فشر فوک فورم کا احتجاج، پانی کے راستے بند ہونے پر تشویش

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ/پی کے)بدین کی رامسر قرار دی گئی ساحلی نریڑی جھیل میں چھنڈن بند کیے جانے کے باعث جھیل کی تباہی کے خلاف فشر فوک فورم نے احتجاج کیا فشر فوک فورم کی 28ویں سالگرہ کے موقع پر ضلع بدین کے اجلاس میں سالگرہ کا کیک کاٹنے کے بعد رہنماؤں نبی بخش ملاح، محمد عمر ملاح، محمد قاسم بچو، محمد حنیف بچو، سومار ملاح اور مامون بچو نے کہا کہ ایک سازش کے تحت عالمی سطح پر رامسر سائٹ قرار دی گئی نریڑی جھیل، جس میں نہروں، سیم نالوں کے آخری سروں اور چھنڈنوں کا پانی آتا تھا، اس پانی کے قدرتی راستے فُلیلی اور گونی جون کی کٹائیاں اور رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کیے جا رہے ہیں انہو نے کہا کہ اس کے باعث نریڑی جھیل کو قدرتی طور پر ملنے والے پانی کے راستے بند ہو رہے ہیں، جس سے جھیل تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو مقامی رہائشی اور ماہی گیر بے روزگاری، بھوک اور بدحالی کا شکار ہو جائیں گے، جبکہ تاریخی رامسر قرار دی گئی نریڑی جھیل مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ فشر فوک فورم نے ماہی گیروں کے روزگار کے تحفظ کے لیے ہمیشہ احتجاجی تحریکیں چلائی ہیں اور ماہی گیروں کے حقوق منوائے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ رینجرز کی زیادتیوں اور نریڑی جھیل کی تباہی کا فوری نوٹس لیا جائے اور بند چھنڈن کھلوائے جائیں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر نریڑی جھیل کو بچانے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ہزاروں ماہی گیر جھیل کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر نکل آئیں گے اور اپنی پرامن جدوجہد کے ذریعے اپنے حقوق حاصل کریں گے انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ، چیف سیکریٹری سندھ، صوبائی وزیر فشریز اور ڈپٹی کمشنر بدین سے مطالبہ کیا کہ رینجرز کی زیادتیاں بند کرائی جائیں، نریڑی جھیل کے چھنڈن کھلوائے جائیں اور جھیل کو تباہی سے بچایا جائے تاکہ غریب ماہی گیر اپنے بچوں کے لیے روزگار کما سکیں۔

مزید خبریں

Back to top button