آزاد کشمیر انتخابات: پیپلز پارٹی کے وفاقی مداخلت پر تحفظات، رانا ثناء اللہ کے الزامات مسترد

کراچی(جانوڈاٹ پی کے) پاکستان پیپلز پارٹی نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں وفاقی حکومت کی مبینہ مداخلت اور سرکاری وسائل کے استعمال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ انتخابی عمل مکمل طور پر آزاد، شفاف اور غیر جانبدار بنایا جائے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ندیم افضل چن نے رانا ثناء اللہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی پہلے دن سے مطالبہ کر رہی ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات ہر قسم کے دباؤ اور اثر و رسوخ سے پاک ہوں۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اور اس کی مشینری کو انتخابی عمل میں کسی بھی قسم کی مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق انتخابی مہم کے دوران ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات، سرکاری وسائل کے مبینہ استعمال اور پولنگ کے روز وفاقی وزراء کی سرکاری ریسٹ ہاؤسز اور دیگر سرکاری مقامات پر موجودگی تشویش کا باعث ہے۔
ندیم افضل چن نے بتایا کہ پیپلز پارٹی اس حوالے سے متعدد بار الیکشن کمیشن کو خطوط لکھ چکی ہے، جن میں مطالبہ کیا گیا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے اثر و رسوخ سے پاک رکھا جائے اور سرکاری وسائل کے مبینہ استعمال کو فوری طور پر روکا جائے۔
انہوں نے رانا ثناء اللہ کی جانب سے عائد کیے گئے انتخابی دھاندلی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جس پولنگ اسٹیشن پر اعتراضات کیے جا رہے ہیں، وہاں تعینات پولنگ عملہ مبینہ طور پر ایک پی ٹی آئی کارکن کے گھر میں مقیم تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات لگانے کے بجائے حقائق کو مدنظر رکھا جائے۔ اگر کسی جماعت کو عوامی حمایت پر یقین ہے تو اسے انتخابی میدان میں مقابلہ کرنا چاہیے۔
ندیم افضل چن نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا مؤقف واضح ہے کہ انتخابات صاف، شفاف اور غیر جانبدارانہ ہونے چاہئیں، اور پارٹی کسی بھی قسم کی انتخابی دھاندلی برداشت نہیں کرے گی۔
انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور عوام کو آزادانہ طور پر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے عوام اپنے ووٹ کے ذریعے اپنی مرضی اور شعور کے مطابق فیصلہ کریں گے۔



