ایرانی سپریم لیڈر شدید زخمی مگر ہوش میں،“بورڈ آف ڈائریکٹرز”طرز کی حکمرانی،رپورٹ میں انکشاف

واشنگٹن(جانوڈاٹ پی کے)امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر ذہنی طور پر متحرک اور باخبر ہیں لیکن ملک کے اہم فیصلے عملاً پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ کمانڈروں کے ایک گروپ کے ذریعے کیے جا رہے ہیں۔نیویارک ٹائمز سے گفتگو میں ایک ایرانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای فضائی حملے میں زخمی ہوگئے تھے اور تاحال طبی ٹیم کی نگرانی میں ہیں۔ایران کے اس سینئر عہدیدار نے بتایا کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای شدید زخمی ہیں مگر ہوش میں ہیں۔ مجتبیٰ خامنہ ای تک پیغامات ہاتھ سے لکھ کر قاصدوں کے ذریعے پہنچائے جا رہے ہیں اور وہ تحریری طور پر ہی جواب دیتے ہیں۔ایرانی سینئر عہدیدار نے کہا کہ اسرائیلی یا امریکی نگرانی سے بچنے کے لیے اعلیٰ حکام سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے قریب نہیں جا رہے ہیں اورپیغام رسانی کے لیے غیر روایتی مگر محفوظ طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای عوامی منظر نامے سے غائب رہنے کے باوجود تحریری نوٹس کے ذریعے بیرونی دنیا کی صورتحال سے آگاہی حاصل کرتے ہیں اور اہم امور پر اپنی منظوری دیتے ہیں۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر ایک طرح کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے انداز میں حکومت چلا رہے ہیں،جس میں مرکزی کردار پاسداران انقلاب کے کمانڈرز کا ہے۔ایک ایرانی سیاستدان عبد الرضا دیواری نے بتایا کہ جنرلز ہی اصل میں اس بورڈ کے ارکان ہیں جو دفاع اور خارجہ پالیسی سمیت اہم فیصلے کرتے ہیں جبکہ خامنہ ای ان فیصلوں کی توثیق کرتے ہیں۔



