ایران میں مذاکرات پر سیاسی کشمکش، صدر پزشکیان کو قربانی کا بکرا بنانے کی کوشش؟

تہران(ویب ڈیسک) ایران کے خلاف جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث مذاکراتی عمل متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جبکہ ایرانی سرکاری بیانیے میں صدر مسعود پزشکیان کو ممکنہ طور پر ذمہ دار قرار دینے کی کوششیں سامنے آ رہی ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق صدر پزشکیان کو موردِ الزام ٹھہرانے کا مقصد حکمران اشرافیہ کے اندر موجود اختلافات کو چھپانا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے صدر پزشکیان کی وجہ سے معاہدے کی اجازت دی، تاہم انہوں نے مذاکرات کی قیادت کرنے والے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ کا نام نہیں لیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق قالیباف کا نام نہ لینا محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سیاسی فیصلہ ہے۔ تہران میں معاہدے کے ممکنہ فوائد اور نقصانات کو الگ الگ دیکھا جا رہا ہے، اگر معاہدہ کامیاب ہوتا ہے تو اس کا سیاسی کریڈٹ قالیباف کو مل سکتا ہے، جبکہ ناکامی کی صورت میں ذمہ داری صدر پزشکیان پر ڈالنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ معاہدہ ایک طاقتور اتحاد کی کوششوں سے تیار ہوا، جسے بعض حلقے "فوجی کمپلیکس” قرار دیتے ہیں۔ اس اتحاد میں انقلابی گارڈز، سکیورٹی ادارے اور مذہبی و انقلابی مالیاتی ادارے شامل ہیں، تاہم اس اتحاد کے اندر بھی دو مختلف دھڑے موجود ہیں۔
ایک دھڑا تکنیکی اور معاشی سوچ رکھتا ہے جس کی نمائندگی محمد باقر قالیباف کرتے ہیں، جبکہ دوسرا سخت گیر دھڑا مفاہمت کو خطرہ سمجھتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر مسعود پزشکیان کو طاقتور حلقوں نے اسی لیے منتخب کیا کیونکہ ان کے پاس کوئی الگ طاقت کا مرکز موجود نہیں، اور سابق ایرانی صدور کے برعکس وہ ملک کے اصل طاقتور مراکز کے لیے بڑا سیاسی چیلنج نہیں بن سکتے۔



