پاکستان کو اکتوبر کا پہلا ایل این جی کارگو موصول، سردیوں میں گیس بحران کا خدشہ بڑھ گیا

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) پاکستان کو اکتوبر میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا پہلا کارگو موصول ہوگیا، تاہم موسم سرما میں گیس کی بڑھتی ہوئی طلب اور محدود فراہمی کے باعث مختلف صنعتی شعبوں کو گیس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

ویب ڈیسک کے مطابق قطر سے ایل این جی لے کر آنے والا جہاز العریش گزشتہ روز صبح 11 بج کر 5 منٹ پر اینگرو کے ایل این جی ٹرمینل پر لنگر انداز ہوا، جبکہ دوپہر 12 بجے گیس کو دوبارہ قدرتی گیس میں تبدیل کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق موسم سرما 2026-27 کے دوران ملک کی گیس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایل این جی کے 24 کارگوز درکار ہوں گے، جس کے باعث گیس کی مسلسل فراہمی توانائی کے شعبے کے لیے اہم چیلنج بن گئی ہے۔

سردیوں میں سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کی گیس کی طلب موجودہ 550 ملین مکعب فٹ یومیہ سے بڑھ کر 1,550 ملین مکعب فٹ یومیہ ہونے کا امکان ہے۔

اسی طرح سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کی طلب بھی موجودہ 300 ملین مکعب فٹ یومیہ سے بڑھ کر 500 ملین مکعب فٹ یومیہ تک پہنچ سکتی ہے۔

گیس کی طلب میں ممکنہ اضافے اور محدود دستیابی کے باعث خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ موسم سرما کے دوران مختلف صنعتی شعبوں کو گیس کی فراہمی میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گیس کی قلت سے برآمدی اور غیر برآمدی صنعتوں، کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) اور سیمنٹ کے شعبوں کی ضروریات متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس کے نتیجے میں صنعتی سرگرمیوں اور پیداواری عمل پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button