لاہور ہائیکورٹ نے سزائے موت پانے والے ملزم کو بری کردیا

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے قتل اور اقدامِ قتل کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے مجرم محمد حسن کو بری کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کی سزا کالعدم قرار دے دی اور فوری رہائی کا حکم جاری کردیا۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم اور جسٹس عبہر گل خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے محمد حسن کی اپیل پر 22 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جسے عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق محمد حسن کے خلاف 2021 میں تھانہ منڈی احمد آباد، دیپالپور، ضلع اوکاڑہ میں قتل اور اقدامِ قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے مقدمے کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ملزم کو سزائے موت اور 10 سال قید کی سزا سنائی تھی، جبکہ سزائے موت کی توثیق کے لیے مرڈر ریفرنس لاہور ہائیکورٹ بھیجا گیا تھا۔
فیصلے میں جسٹس عبہر گل خان نے قرار دیا کہ ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر اور اس حوالے سے اختیار کیا گیا طریقہ کار وقوعے کے بعد مشاورت اور سوچ بچار کا تاثر دیتا ہے۔ عدالت نے زخمی شخص اور مدعی کے بیانات میں بھی سنگین نوعیت کے تضادات کی نشاندہی کی۔
عدالت کے مطابق جائے وقوعہ سے ملنے والے خون کے شواہد اور پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ میں مطابقت نہیں پائی گئی، جس سے استغاثہ کے مقدمے پر مزید شکوک پیدا ہوئے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ استغاثہ محمد حسن کے خلاف جرم کو شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ فوجداری قانون کے تحت اگر مقدمے میں معقول شک پیدا ہوجائے تو اس کا فائدہ ملزم کو دیا جاتا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل محمد اخلاق اور مدعی مقدمہ کے وکیل کے دلائل بھی استغاثہ کے مقدمے میں موجود تضادات اور شکوک دور کرنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوئے۔
لاہور ہائیکورٹ نے دستیاب شواہد کا جائزہ لینے کے بعد محمد حسن کی سزائے موت اور دیگر سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے بری کرنے کا حکم دیا اور فوری طور پر جیل سے رہا کرنے کی ہدایت کردی۔



