شواہد کی کڑی مکمل نہ ہونے پر قتل کیس کے دو ملزمان بری، عمر قید کی سزائیں کالعدم

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے مقدمے میں شواہد کی کڑی مکمل نہ ہونے، ایف آئی آر کے اندراج میں غیر معمولی تاخیر اور مقتول کی لاش کی شناخت ثابت نہ ہونے پر دو ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا۔

جسٹس سید فرہاد علی شاہ نے محمد قاسم عرف کاشو بنام ریاست، محمد طارق بنام ریاست اور مسماۃ کوثر بی بی بنام ریاست پر مشتمل مقدمات کا مشترکہ فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے محمد قاسم عرف کاشو اور محمد طارق کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے دونوں کو سنائی گئی عمر قید کی سزائیں کالعدم قرار دے دیں۔

فیصلے کے مطابق دونوں ملزمان کے خلاف تھانہ صدر دنیاپور، ضلع لودھراں میں عمر فاروق نامی نوجوان کے قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے 21 دسمبر 2020 کو دونوں ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزمان پر جرم کا الزام شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا اور مقدمے میں شواہد کی کڑی مکمل نہیں تھی۔

عدالت نے ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ جائے وقوعہ اور تھانے کے درمیان تقریباً 9 میل کا فاصلہ ہونے کے باوجود مقدمہ درج کرنے میں غیر معمولی تاخیر ہوئی، جبکہ تاخیر کی وضاحت بھی تسلی بخش نہیں تھی، جس سے استغاثہ کے مقدمے پر شکوک پیدا ہوتے ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ مقتول کے والدین وقوعہ کے عینی شاہد نہیں تھے بلکہ ان کی گواہی حالات و واقعات پر مبنی تھی۔ عدالت نے کال ڈیٹا ریکارڈ کی بنیاد پر ملزم سے مبینہ اعتراف کے حوالے سے استغاثہ کے مؤقف کو بھی انسانی رویے کے عمومی تقاضوں سے ہم آہنگ قرار نہیں دیا۔

عدالت نے مشترکہ نشاندہی پر لاش کی برآمدگی کو بھی ناقابل قبول شہادت قرار دیا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق لاش مکمل طور پر گل سڑ چکی تھی اور شناخت کے قابل نہیں رہی تھی، جبکہ میڈیکل آفیسر نے جرح کے دوران بتایا کہ لاش کی خراب حالت کے باعث موت کی وجہ بھی متعین نہیں کی جاسکی۔

لاہور ہائیکورٹ نے مزید قرار دیا کہ ریکارڈ پر ایسا قابل اعتماد ثبوت موجود نہیں جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ برآمد ہونے والی لاش عمر فاروق ہی کی تھی۔ عدالت کے مطابق ڈی این اے رپورٹ یا اس کا تجزیہ بھی ریکارڈ پر پیش نہیں کیا گیا۔

فیصلے میں واضح کیا گیا کہ فوجداری مقدمے میں اگر کوئی ایسا قرینہ موجود ہو جو ایک سمجھدار شخص کے ذہن میں ملزم کے جرم کے حوالے سے معقول شک پیدا کرے تو ملزم شک کے فائدے کا حقدار ہوتا ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ موجودہ مقدمے میں استغاثہ شواہد کی مکمل اور ناقابل تردید کڑی پیش کرنے میں ناکام رہا، لہٰذا محمد قاسم عرف کاشو اور محمد طارق کو سزا برقرار نہیں رکھی جاسکتی۔

لاہور ہائیکورٹ نے دونوں ملزمان کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے 21 دسمبر 2020 کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور انہیں بری کرنے کا حکم جاری کردیا۔

مزید خبریں

Back to top button