کشمیر کی قانونی حیثیت دھمکیوں سے نہیں بدلی جا سکتی، بھارتی وزیرِ دفاع کے بیان پر خواجہ آصف کا سخت ردعمل

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کے حالیہ بیان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اشتعال انگیز بیان بازی اور دھونس کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ قانونی حقائق کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا، جبکہ جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق برقرار ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر اپنے ردعمل میں خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان بھارتی وزیرِ دفاع کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے بیانات سیاسی مقاصد کے حصول اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حقائق کو مسخ کرنے کی ایک اور کوشش ہیں، تاہم اس سے نہ تو بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی حیثیت تبدیل ہو سکتی ہے اور نہ ہی خطے میں امن، استحکام یا بامعنی مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

وزیرِ دفاع نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے، جس کا حتمی فیصلہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی آزادانہ رائے کے مطابق ہونا باقی ہے۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں سے متعلق موجود دستاویزی ریکارڈ کے باوجود پاکستان پر الزامات عائد کرنے کی بھارتی کوششیں اپنی ساکھ کھو چکی ہیں۔ ان کے مطابق بھارت کی پالیسیاں جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کو فروغ دے رہی ہیں اور اس کی جارحانہ طرزِ عمل پر عالمی برادری کو توجہ دینی چاہیے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت کی غیر ذمہ دارانہ بیان بازی خطے میں کشیدگی اور بین الریاستی تصادم کے خدشات میں اضافہ کر رہی ہے۔ تاہم پاکستان امن، مذاکرات اور علاقائی استحکام کے لیے پُرعزم ہے، لیکن اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیرِ دفاع کی حالیہ بیان بازی دراصل بھارت کے اندر بڑھتی ہوئی سیاسی بے چینی اور وزیرِاعظم نریندر مودی کی حکومت کو درپیش داخلی چیلنجز سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔

مزید خبریں

Back to top button