پاکستان کی کوشش ہے کہ یہ جنگ بندی مستقل جنگ بندی پر ختم ہو، اسحاق ڈار

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے امریکا اور ایران کے درمیان مستقل جنگ بندی کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی اس وقت کوشش ہے عارضی جنگ بندی مستقل ہوجائے۔
اسلام آباد میں پاکستان علما کونسل کے زیر اہتمام چھٹی بین الاقوامی پیغام اسلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ دنیا جن چیلنجز سے گزر رہی ہے اس کے لیے نہایت ضروری ہے اور ہمارے علمائے کرام اور مسلم امہ کی قیادت پر ذمہ داری ہے کہ امت کو اکٹھا رکھنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین اور مقبوضہ جموں و کشمیر ایسے تنازعات ہیں، جو ہماری اولین ترجیح تھی، ہے اور رہے گی، فلسطین کے حوالے سے وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکیے، انڈونیشیا اور پاکستان نے مل کر آواز اٹھائی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کی، جس کے بعد خون ریزی میں بے پناہ کمی آئی، مزید کوششیں جاری ہیں اور اس حوالے سے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے خصوصی اجلاس بھی ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح جب تک کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی اپنی خواہشات کے مطابق ریفرنڈن کے ذریعے آزاد نہیں ہوگا، اس وقت جنوبی ایشیا میں کشیدگی رہے گی۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں چیلنجز کرکے ہمارے دشمن نے دیکھ لیا اور اللہ کے فضل سے مسلح افواج کے سربراہان نے ثابت کیا کہ پاکستان کو کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ایران پر اسرائیل کا حملہ ہوا تو پاکستان نے 28 فروری سے اب تک اپنا بھرپور کردار ادا کیا، ہم نے 47 سال بعد امریکا اور ایران کو ایک میز پر لا کر بٹھا دیا، اس سے پہلے عمان کے ذریعے ہونے والے مذاکرات بلاواسطہ ہوتے تھے، علیحدہ بیٹھے ہوتے تھے، ایک فریق ایک طرف اور دوسری طرف دوسری فریق بیٹھے ہوتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ پچھلے دو سال کے دوران ہونے والے مذاکرات میں عمان کے وزیرخارجہ دونوں فریقین کی تجاویز ایک سے لے کر دوسرے کے پاس لے جاتے تھے اور وہاں سے جواب دوسرے کو پہنچاتے تھے لیکن ہم نے کہا آپ اکٹھے بیٹھے اور بات کریں۔
ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ براہ راست مذاکرات کے لیے ان کی شرط تھی کہ پاکستان بھی وہاں بیٹھے، پھر الحمداللہ پاکستان بھی ساتھ بیٹھا، وزیراعظم شہباز شریف نے یہ ذمہ داری مجھے اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اور قومی سلامتی کے مشیر عاصم ملک کو دی اور ہم نے 21 گھنٹے بغیر کسی وقفے کے ان سے مذاکرات کیے۔
جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے پر روزانہ درجنوں حملے ہوتے تھے، اسرائیل ایران پر حملہ کرتا تھا، ایران جواباً مشرق وسطیٰ پر حملہ کر رہا تھا، وہ کہتے تھے امریکی بیسز پر حملے کر رہے ہیں لیکن ہم نے اپنے بھائی ایران کو پورے دل کے ساتھ واضح کردیا اور پوری کوشش کی کہ آپس میں جو کچھ ہو رہا ہے کم از کم یہ بند ہو۔
نائب وزیراعظم نے بتایا کہ ہم نے یہ بھی باور کرایا کہ سعودی عرب کے لیے اور حرمین شریفین کی پاسداری کے لیے ہر پاکستانی کی جان بھی حاضر ہے، اللہ تعالی نے پاکستان کو یہ سعادت بخشی کہ ہم حرمین شریفین کے محافظین اور خادم ہیں اور یہ صرف میں نہیں بلکہ 24 کروڑ عوام کی آواز ہے، ہمارے سیاسی اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن جب بات حرمین شریفین، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی آتی ہے تو ہر پاکستانی اس کے لیے اپنی جان قربان کرنے کے لیے ہر لمحہ تیار رہتا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سعودی عرب کے ساتھ پچھلے سال اسٹریٹجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ کیا اور ہم نے اس وقت فریقین کو ضرور بتایا کہ سعودی عرب ہمارے لیے نوگو ایریا ہے کہ کوئی بھی اس کی طرف میلی آنکھ اٹھا کر دیکھے، ہم اس معاہدے کے تحت پابند ہیں، اس وقت پاکستانی بہادر افواج کا ایئراسکوارڈن وہاں موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہماری پوری کوشش تھی کہ براہ راست مذاکرات اور جنگ بندی کرائیں جو پوری ہوئی، پہلے ایک ہوئی پھر اس میں توسیع ہوئی، پھر دوسری توسیع ہوئی اور پھر تیسری توسیع ہوئی اور کم ازکم جو درجنوں لوگ روزانہ شہید ہو رہے تھے اور ہزاروں میں تعداد جا رہی تھی وہ بند ہوگئے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ یہ جنگ بندی مستقل جنگ بندی پر ختم ہو اور مسلمان ممالک کے درمیان دلوں میں کوئی خلا آیا ہے تو وہ ایک دوسرے کے ساتھ جوڑیں تاکہ ایک دوسرے کے ساتھ وہی محبت ہو کیونکہ ہم مل کر کوششیں کریں گے تو ہمیں کوئی شکست نہیں دے سکتا ہے، پاکستان کی یہ حکومت اس حوالے سے واضح ہے۔



