ایران امریکا کشیدگی میں نیا موڑ، ایرانی بحری جہازوں پر حملہ ہوا تو امریکی اڈے نشانے پر ہوں گے، ایرانی آرمی چیف

تہران(مانیٹرنگ ڈیسک) ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی، ایرانی عسکری قیادت نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی بحری جہازوں کے خلاف کسی بھی جارحانہ کارروائی کا سخت جواب دیا جائے گا، جبکہ آبنائے ہرمز میں ایرانی نگرانی کا نظام مکمل طور پر فعال قرار دے دیا گیا ہے۔
ایرانی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف علی عبداللہی نے واضح کیا کہ ایرانی بحری جہازوں کے خلاف کسی بھی جارحانہ کارروائی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایرانی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا تو جواباً امریکی فوجی اڈوں کو ہدف بنایا جائے گا۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے آبنائے ہرمز میں ایران کی نگرانی اور دفاعی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی جدید ٹیکنالوجی ایرانی نگرانی کے نظام کو عبور نہیں کر سکتی، آبنائے ہرمز میں نگرانی کا نظام مکمل طور پر فعال ہے۔
حسین محبی کے مطابق خلیج فارس کا کنٹرول ایران کے باصلاحیت نوجوانوں کے پاس ہے۔ انہوں نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کو کیوبا کے ساحلوں تک محدود رہنا چاہیے۔
ایرانی حکام کے یہ سخت بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب آبنائے ہرمز میں امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکی جانب سے ایرانی تیل بردار بحری جہازوں کے خلاف کارروائیوں اور ایران کے امریکی اہداف پر جوابی حملوں کے بعد خطے کی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔



