قطر،مصر،پاکستان اوردیگرثالثوں کی امریکااورایران کو 10روزہ جنگ بندی کی تجویز

واشنگٹن(جانوڈاٹ پی کے)امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق قطر، مصر، پاکستان اور دیگر علاقائی ثالثوں نے امریکا اور ایران کے سامنے 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے۔

 ایگزیوس کے مطابق  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری جنگ میں ایک ایسے فیصلہ کن موڑ پر پہنچ گئے ہیں جہاں امریکی اور اسرائیلی حکام کے مطابق اب صرف دو قابل عمل راستے باقی رہ گئے ہیں۔ایک آپشن تو یہ ہےکہ ایک نئی 10 روزہ جنگ بندی کی کوشش کی جائے جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہو۔ دوسر آپشن یہ ہےکہ  اسرائیل کے ساتھ مل کر ایک بڑی  فوجی مہم شروع کی جائے تا کہ ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جاسکے۔

امریکی ویب سائٹ کے مطابق ٹرمپ نے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا، تاہم  امریکی حکام کا خیال ہےکہ  آنے والے چند دن طے کریں گےکہ کون سا راستہ اختیار کیا جائےگا، کیونکہ خلیج میں جاری طویل اور مسلسل جنگ کو جاری رکھنےکی گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے۔

ثالثی کی اس کوشش سے واقف دو علاقائی ذرائع  نے ایگزیوس کو  بتایا کہ قطر، مصر، پاکستان  اور دیگر علاقائی ثالثوں نے امریکا اور ایران کے سامنے 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے۔امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس تجویز کا جائزہ لے رہی ہے۔ابھی تک نہ تو  امریکا اور نہ ہی ایران نے اس تجویز کو قبول کیا ہے۔ دونوں فریق جنگ بندی سے پہلے مزید حملوں کے ذریعے اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

ایگزیوس کے مطابق مسلسل 10 روز کی بمباری سے بھی آبنائے ہرمز پر ایران کا اثر و رسوخ ختم نہیں ہوسکا، جس کے باعث ٹرمپ ایک ایسی جنگ میں مزید الجھتے جا رہے ہیں جس کے بارے میں وہ کئی بار فتح کا اعلان کرچکے ہیں۔

دوسری جانب امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں دوبارہ بڑھ رہی ہیں، جس سے پہلے ہی غیر مقبول جنگ کے خلاف اندرون ملک ردعمل مزید بڑھ رہا ہے۔

ایک علاقائی ذریعے کے مطابق ہفتے کے روز جنگ بندی کی کوششوں میں پیش رفت ہو رہی تھی، لیکن اردن میں ایرانی میزائل حملے میں 2 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد واشنگٹن نے اپنا مؤقف سخت کرلیا۔

ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے تصدیق کی کہ مذاکرات جاری ہیں لیکن  ٹرمپ نے ابھی ایران کے خلاف جوابی کارروائی مکمل نہیں کی، وہ اردن میں امریکی فوجیوں کی حالیہ ہلاکتوں کا بدلہ لیں گے، یہ تباہ کن حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک صدر خود فیصلہ نہ کریں۔

ایگزیوس کے مطابق  ایک علاقائی ذریعے نےکہا کہ  ہم ایک پائیدار حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایران شرائط مسلط نہیں کر سکتا، لیکن اسے نظر انداز بھی نہیں کیا جاسکتا۔

مزید خبریں

Back to top button