فیلڈ مارشل کے لیے نیا چیلنج، عمران خان کے حوالے سے حیران کن انکشافات

اسلام آباد: خصوصی نشست (جانو ڈاٹ پی کے)پاکستان کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی سفارتی پذیرائی اور ایران امریکہ تنازع میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کلیدی کردار نے ملکی سیاست کے رخ کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں بین الاقوامی کامیابیوں نے ملکی اداروں کے وقار میں بے پناہ اضافہ کیا ہے، تاہم اس نئی صورتحال نے قیدِ تنہائی کا شکار عمران خان اور ان کی سیاست کے لیے نئے اور کڑے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ مبصرین کے مطابق عمران خان ہمیشہ سے مقتدر حلقوں کے ساتھ ڈیل کے خواہش مند رہے ہیں اور بارہا اپنے نمائندے مقرر کرنے کی بات کرتے رہے ہیں، لیکن اب جبکہ فیلڈ مارشل کا قد عالمی سطح پر ایک بڑے مصالحت کار کے طور پر ابھرا ہے، تحریک انصاف کی منفی سیاست اور اداروں کے خلاف بیانیہ خود ان کے لیے گڑھا ثابت ہو رہا ہے۔
سینئر صحافیوں اور دانشوروں کے درمیان ہونے والی حالیہ گفتگو میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ پاکستان کا معاشرہ بنیادی طور پر ایک سیاسی معاشرہ ہے اور یہاں کسی بھی غیر سیاسی قوت کا طویل مدتی غلبہ ممکن نہیں۔ فیلڈ مارشل کی موجودہ مقبولیت کو ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور میرٹ پر حاصل کی گئی عزت قرار دیا جا رہا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ تنبیہ بھی کی گئی ہے کہ سیاسی خلا کو صرف سیاسی جماعتیں ہی پُر کر سکتی ہیں۔ عمران خان کے لیے اب سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ وہ ایک طرف اداروں کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہیں اور دوسری طرف ان کے خلاف محاذ آرائی بھی جاری رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی مقبولیت اب جیل کی دیواروں تک محدود ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام کے لیے عمران خان کو مقتدر حلقوں کے بجائے نواز شریف، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان جیسے سیاستدانوں سے بات کرنی چاہیے تاکہ ملک میں حقیقی جمہوری کلچر پروان چڑھ سکے۔
اس پیچیدہ سیاسی صورتحال، فیلڈ مارشل کے مستقبل کے کردار اور عمران خان کی سیاست کے حوالے سے سینئر تجزیہ کاروں کے ساتھ سید عمران شفقت کی خصوصی نشست کا احوال ملاحظہ فرمائیں۔




