انڈونیشیا میں جین زی کا پیٹرول قیمتوں اور کرپشن پر حکومت کیخلاف احتجاج

جکارتہ(جانوڈاٹ پی کے )بنگلادیش اور نیپال سمیت دیگر ممالک کی طرح اب جین زی نے روایتی سیاستدانوں سے نجات اور کرپشن میں ڈوبی حکومت کی تبدیلی کے لیے انڈونیشیا میں بھی محاذ کھڑا کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں ہزاروں طلبا نے ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافے، بڑھتے ہوئے سرکاری اخراجات اور مفت اسکول کھانے کے منصوبے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

مظاہرین نے صدر پرابوو سوبیانتو کی حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ حکومت کے غیر ضروری اخراجات اور ناقص معاشی پالیسیوں کے باعث ملک کو مالی بحران کا سامنا ہوسکتا ہے۔

اس احتجاج کی ابتدا بھی سوشل میڈیا پر ہوئی جہاں غیر سیاسی نوجوانوں نے حکومتی پالیسیوں کو نشانہ بنایا شروع کیا اور پھر یہ پلیٹ فارمز بڑھتے ہوئے باقاعدہ احتجاج کی شکل اختیار کیا گیا۔ پیش ٹیگ #MenujuIndonesiaBangkrut یعنی ’انڈونیشیا دیوالیہ پن کی جانب‘ ٹرینڈ کرتا رہا۔

احتجاج کے دوران طلبہ نے جکارتہ کے معروف ہوٹل انڈونیشیا راؤنڈ اباؤٹ کی جانب مارچ کی کوشش کی تاہم پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کرکے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔ بعض مظاہرین نے پولیس کی رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کی جبکہ معمولی جھڑپیں بھی ہوئیں تاہم فوری طور پر کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

ایک طالب علم نے پولیس سے مخاطب ہوکر کہا، "ایندھن مہنگا ہورہا ہے اور ہماری زندگی مزید مشکل بنتی جارہی ہے۔ اگر آئین احتجاج کا حق دیتا ہے تو پھر ہمیں کیوں روکا جا رہا ہے؟”

طلبا نے مطالبہ کیا کہ حکومت ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ فوری واپس لے اور اربوں ڈالر مالیت کے مفت کھانے کے منصوبے پر نظرثانی کرے، جس پر حالیہ مہینوں میں اجتماعی فوڈ پوائزننگ اور بدعنوانی کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

رواں ہفتے سرکاری توانائی کمپنی پرتامینا نے عام استعمال کے دو اہم ایندھنوں خصوصاً پرٹامیکس کی قیمتوں میں 30 فیصد سے زیادہ اضافہ کردیا۔ جس سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔

یاد رہے کہ انڈونیشیا میں گزشتہ کئی ماہ سے مہنگائی، قومی کرنسی روپیہ کی قدر میں مسلسل کمی اور بڑھتے ہوئے مالیاتی دباؤ کے باعث عوامی بے چینی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button