ایف بی آر اصلاحات اور ٹیکس نظام کی ڈیجیٹلائزیشن کیلئے 20 کروڑ ڈالر قرض لینے کی منظوری

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)حکومت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں اصلاحات اور ٹیکس نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے مزید 20 کروڑ ڈالر کا غیر ملکی قرض لینے کی منظوری دے دی، جس کے بعد ٹیکس نظام کی جدیدکاری کے لیے پاکستان کی جانب سے حاصل کیے گئے غیر ملکی قرضوں کا مجموعی حجم تقریباً 4.9 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔
وزارتِ منصوبہ بندی کے مطابق مرکزی ترقیاتی ورکنگ پارٹی نے 57 ارب 10 کروڑ روپے مالیت کے ’’ٹرانسفارمنگ اینڈ ڈیجیٹلائزنگ ریونیو ایڈمنسٹریشن‘‘ منصوبے کی منظوری کی سفارش کردی ہے۔ منصوبہ مزید غور اور حتمی منظوری کے لیے قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کو بھجوا دیا گیا ہے۔
منصوبے کی مالی معاونت ایشیائی ترقیاتی بینک کے قرض سے کی جائے گی، جبکہ مجموعی لاگت میں سے 8.1 کروڑ ڈالر، تقریباً 22.5 ارب روپے پانچ سال کے دوران مشاورتی خدمات پر خرچ کیے جائیں گے۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق پلاننگ کمیشن کے اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان کے ٹیکس نظام میں اصلاحات کے لیے مختلف ترقیاتی شراکت داروں سے تقریباً 4.7 ارب ڈالر حاصل کیے جاچکے ہیں، نئے قرض کے بعد یہ رقم بڑھ کر تقریباً 4.9 ارب ڈالر ہوجائے گی۔
پلاننگ کمیشن نے ایف بی آر سے ماضی میں غیر ملکی معاونت سے مکمل کیے گئے ٹیکس ایڈمنسٹریشن اینڈ ریفارمز پروجیکٹ، پاکستان سنگل ونڈو، انٹیگریٹڈ ٹرانزٹ ٹریڈ مینجمنٹ سسٹمز اور پاکستان ریزز ریونیو پروگرام سمیت دیگر منصوبوں کے اثرات کا جامع جائزہ لینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن احسن اقبال نے منصوبے کے لیے واضح، قابلِ پیمائش اور ٹھوس اہداف مقرر کرنے پر زور دیا، خصوصاً ریونیو میں اضافے، ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح بہتر بنانے اور ٹیکس دہندگان کا دائرہ وسیع کرنے کے حوالے سے۔
ایف بی آر کے مطابق نئے منصوبے کے ذریعے 2029 تک ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 10.3 فیصد سے بڑھا کر 13.5 فیصد جبکہ فعال رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کی تعداد 70 لاکھ سے بڑھا کر 1.2 کروڑ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
وزارتِ منصوبہ بندی کے مطابق منصوبے کا بنیادی مقصد ملکی وسائل کو متحرک کرنا اور ایف بی آر کے 2024-28 ٹرانسفارمیشن پلان پر عملدرآمد کے لیے ریونیو انتظامیہ کے پورے نظام کو ڈیجیٹل بنانا ہے۔ ایف بی آر کے مطابق مذکورہ ٹرانسفارمیشن پلان وفاقی کابینہ سے 350 ارب روپے کی مجموعی لاگت سے منظور ہوچکا ہے اور مختلف منصوبوں کے تحت ہارڈویئر و سافٹ ویئر کو بھی اپ گریڈ کیا جارہا ہے۔
تاہم ماضی میں بھی غیر ملکی قرضوں سے چلنے والے ٹیکس اصلاحاتی منصوبوں کے تحت ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح میں نمایاں اضافے کے اہداف مقرر کیے گئے تھے، لیکن ان میں سے کئی اہداف حاصل نہیں ہوسکے۔



