جعلی رجسٹریوں کا کیس: لاہور ہائیکورٹ نے اینٹی کرپشن سے انکوائری اور تفتیش کا طریقہ کار طلب کرلیا

لاہور (جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے جھنگ میں جعلی رجسٹریوں کے مقدمے میں رجسٹری محرر تاج محمد اور رجسٹرار محبوب کی عبوری درخواستِ ضمانت پر ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن سے انکوائریوں، تفتیش اور ڈیپوٹیشن پالیسی کے طریقہ کار کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے کیس کی سماعت کے دوران ڈی جی اینٹی کرپشن سہیل ظفر چٹھہ سے استفسار کیا کہ وہ مقدمات کی خود نگرانی کیوں نہیں کرتے؟ کیا وہ زیادہ وقت کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو دے رہے ہیں اور اینٹی کرپشن کے معاملات پر توجہ نہیں دی جارہی؟ انہوں نے ریمارکس دیے کہ ایک کیس عدالت میں آنے کے بعد دو دن میں معاملات درست ہوگئے، تاہم عدالت ہر مقدمے میں خود جاکر نگرانی نہیں کرسکتی۔ انہوں نے پوچھا کہ مستقبل میں ایسے معاملات کی روک تھام کے لیے کیا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔
ڈی جی اینٹی کرپشن سہیل ظفر چٹھہ نے عدالت کو بتایا کہ محکمے کے کام میں بہت اضافہ ہوگیا ہے اور اب ہر درخواست کو براہِ راست انکوائری میں تبدیل کرنے کا طریقہ کار اپنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق سال 2025 کے دوران 16 ہزار 355 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 9 ہزار سے زائد نمٹا دی گئیں۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ ہر درخواست کو انکوائری میں تبدیل کرنے کا حکم کس تاریخ کو جاری کیا گیا تھا اور اگر کسی درخواست کو نمٹا دیا جائے تو کیا اس پر دوبارہ کارروائی شروع کی جاسکتی ہے؟
عدالت نے ریمارکس دیے کہ بعض اوقات کسی پسندیدہ افسر کی تعیناتی کا انتظار کیا جاتا ہے اور اس کے آنے پر بند کی گئی انکوائری دوبارہ کھول دی جاتی ہے۔ ڈی جی اینٹی کرپشن نے بتایا کہ انکوائری مکمل کرنے کے لیے چار ماہ کی مدت مقرر ہے اور ایک شکایت کی دو مرتبہ انکوائری بھی ہوسکتی ہے۔
چیف جسٹس نے انکوائری کے طریقہ کار کی قانونی حیثیت، حکومت کو قانون میں ترمیم کی تجاویز دینے اور محکمے کے لیگل ونگ میں تعیناتیوں کے طریقہ کار سے متعلق بھی سوالات کیے۔ ڈی جی اینٹی کرپشن نے بتایا کہ لیگل ونگ میں تعیناتی کے لیے ایل ایل بی کی ڈگری اور کم از کم پانچ سال کا تجربہ ضروری ہے۔
اس پر چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ پانچ سال کے تجربے میں وکیل ابھی سیکھنے کے مرحلے میں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعیناتی کے وقت متعلقہ افسر کی مہارت اور عملی تجربے کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ جھنگ میں چھ جعلی رجسٹریوں کا مقدمہ 2020 میں درج کیا گیا تھا، تاہم چھ سال گزرنے کے بعد اینٹی کرپشن نے دوبارہ ان کے موکل کو مقدمے میں نامزد کردیا، جبکہ ان کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں۔ وکیل نے عدالت سے درخواست گزار کی عبوری ضمانت کنفرم کرنے کی استدعا کی۔
عدالت نے سماعت کے دوران ڈی جی اینٹی کرپشن سے انکوائریوں، تفتیش اور ڈیپوٹیشن پالیسی کے طریقہ کار کی تفصیلات طلب کرلیں۔



