پنجاب میں 37 ہزار سے زائد سرکاری اسامیوں کے خاتمے پر چوہدری منظور کا شدید احتجاج،فیصلے کوانارکی کی طرف قدم قرار دیدیا

لاہور(جانوڈاٹ پی کے)پنجاب میں سرکاری سطح پر 37 ہزار 314 اسامیوں کے خاتمے کے فیصلے پر سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آ گیا ہے۔
پاکستان پیپلز لیبر بیورو کے انچارج چوہدری منظور احمد نے اس فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے “انارکی کی طرف قدم” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی صورتحال پہلے ہی عوام کے لیے مشکلات سے بھرپور ہے، جبکہ آئی ایم ایف کی پالیسیوں کے باعث مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، ایسے میں روزگار کے مواقع ختم کرنا صورتحال کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔
چوہدری منظور احمد کے مطابق حالیہ سیلابی تباہ کاریوں اور معاشی بحران نے روزگار کے پہلے ہی محدود مواقع کو مزید کم کر دیا ہے، جبکہ بیرون ملک معاشی دباؤ اور عالمی حالات خصوصاً مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کے باعث بیرون ملک روزگار کے مواقع بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کے مطابق اندرونِ ملک نوکریوں میں کمی سے نوجوانوں میں بے چینی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے خاص طور پر محکمہ تعلیم میں 30 ہزار سے زائد اسامیوں کے خاتمے اور محکمہ زراعت سمیت دیگر شعبوں میں ہزاروں ملازمتیں ختم کرنے کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے دروازے بند کرنے کے مترادف ہیں۔
چوہدری منظور نے الزام عائد کیا کہ حکومت عوامی اخراجات کم کرنے کے بجائے ذاتی تشہیر اور دیگر غیر ضروری منصوبوں پر اربوں روپے خرچ کر رہی ہے، جو عوامی مفاد کے منافی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس فیصلے کو واپس نہ لیا گیا تو پیپلز پارٹی بھرپور احتجاج کرے گی، جو اسمبلیوں، عدالتوں اور سڑکوں تک پھیلایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ فوری طور پر ان اسامیوں کی بحالی کا اعلان کیا جائے تاکہ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع دوبارہ میسر آ سکیں۔



