ٹرمپ اور نیتن یاہو میں ایران پر بڑے فوجی حملے کے امکان پر بات چیت کا انکشاف، وائٹ ہاؤس کی تردید

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان گزشتہ ہفتے ایران کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کے امکان پر بات چیت ہوئی، جس میں ایرانی فوجی اور جوہری اہداف کو نشانہ بنانے کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اسرائیلی انٹیلی جنس کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا۔ اسرائیل کو ایران کی ممکنہ یورینیم افزودگی کی تنصیب ’’پک ایکس ماؤنٹین‘‘ کے حوالے سے بھی خدشات لاحق ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر دوبارہ فوجی حملوں کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور سینٹرل کمانڈ کے بعض عہدیدار ایران پر دوبارہ حملوں کے حامی بتائے گئے ہیں، جبکہ صدر ٹرمپ کے متعدد مشیر فی الحال ایران پر معاشی پابندیاں برقرار رکھنے کے حق میں ہیں۔
ایگزیوس کے مطابق اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زمیر اور امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین ڈین کین کے درمیان بھی ایران پر ممکنہ حملوں کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ایگزیوس کی رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ واضح کر چکے ہیں کہ وہ وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کرنا چاہتے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی سے متعلق امریکی انتظامیہ کے اندر مختلف مؤقف سامنے آئے ہیں، تاہم وائٹ ہاؤس کی تردید کے بعد ایران پر دوبارہ حملوں کے حوالے سے حتمی امریکی پالیسی واضح نہیں ہے۔



