خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کاطوفان!2سال میں6ہزار200واقعات،دانیال چوہدری نے بڑے سوال اٹھا دیئے

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے)وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا ہے کہ ریاست اور خیبرپختونخوا کا بنیادی مسئلہ سیاست نہیں بلکہ دہشت گردی ہے، اس معاملے کو سیاسی نعروں کے بجائے حقائق اور اعداد و شمار کی بنیاد پر دیکھنا ہوگا۔
نجی ٹی وی کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بیرسٹر دانیال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو سال کے دوران خیبرپختونخوا میں تقریباً 6 ہزار 200 دہشت گردی کے واقعات پیش آئے، جن میں تقریباً 1 ہزار 200 افراد شہید ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ اس عرصے کے دوران افغان شہریوں کی جانب سے 37 خودکش حملے کیے گئے، جبکہ صرف رواں سال خیبرپختونخوا میں 14 خودکش حملے ہوچکے ہیں، جن میں اکثریت افغان شہریوں کی تھی۔
بیرسٹر دانیال چوہدری نے خیبرپختونخوا پولیس کے وسائل پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ صوبے میں پولیس کی مجموعی نفری تقریباً 1 لاکھ 25 ہزار ہے، تاہم تقریباً 13 ہزار اہلکار وی آئی پی پروٹوکول پر تعینات ہیں جبکہ 17 ہزار پولیس آسامیاں خالی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے صوبے میں جہاں پولیس دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑ رہی ہے، وہاں پولیس کو مطلوبہ نفری، وسائل اور سہولیات فراہم نہ کرنا انتہائی تشویشناک ہے۔
وفاقی پارلیمانی سیکرٹری نے مزید کہا کہ ضم شدہ اضلاع میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی استعداد بھی انتہائی محدود ہے۔ ان کے مطابق پورے سی ٹی ڈی کے پاس تقریباً 17 بلٹ پروف گاڑیاں اور 3 ہزار 300 اہلکار ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے دہشت گردی کے خلاف چوکیوں کی تعمیر نو اور انہیں مضبوط بنانے کے لیے 42 ارب روپے مانگے، تاہم خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے صرف 1.2 ارب روپے جاری کیے گئے۔
دانیال چوہدری نے سوال اٹھایا کہ جب پولیس خود وسائل کی کمی کی نشاندہی کر رہی ہے تو خیبرپختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف پولیس کو مطلوبہ وسائل کیوں فراہم نہیں کر رہی۔
انہوں نے تحریک انصاف پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی گزشتہ 13 سال سے خیبرپختونخوا میں حکومت یا سیاسی اثر و رسوخ رکھتی ہے، اس لیے اسے اپنی صوبائی کارکردگی اور دہشت گردی سے نمٹنے کی پالیسی کا جواب دینا ہوگا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی بطور وزیراعظم خود دہشت گردی کے مسئلے کے حل کے لیے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مذاکرات اور انگیجمنٹ کی بات کرتے رہے ہیں۔



