بدین:سندھ کی تقسیم،نئے صوبوں اور جلال پور کینال کیخلاف عوامی تحریک کی اجتجاجی ریلی

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/ جانو ڈاٹ/ پی کے)سندھ کو تقسیم کرنے، سندھ کی زمینوں اور معدنی وسائل پر قبضے، مجوزہ جلال پور کینال، ممکنہ 28ویں آئینی ترمیم اور نئے صوبوں کی مبینہ سازش کے خلاف عوامی تحریک کی مرکزی کال پر جاری عوامی بیداری مہم کے سلسلے میں نوتکانی موڑ پر ریلی نکالی گئی اور پمفلٹس تقسیم کیے گئے عوامی تحریک ضلع بدین کے صدر مہران درس، سریش کمار بھیل، عمران پنہور، محبوب دل، اویس پنہور، انصار جمالی، لال جان اور دیگر کی قیادت میں نوتکانی شہر کے شیدی موڑ سے جھڈو-ٹنڈو باگو مرکزی شاہراہ تک ریلی نکالی گئی۔ مظاہرین نے سڑک پر دھرنا دے کر عوام کو سندھ کے حقوق کے تحفظ کے لیے بیدار رہنے کا پیغام دیا۔ ریلی میں کم سن بچے بھی شریک تھے اس موقع پر مظاہرین نے جلال پور کینال، سندھ کی زمینوں اور وسائل پر مبینہ قبضے اور نئے صوبوں کے قیام کے خلاف شدید نعرے بازی کی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عوامی تحریک کے رہنماؤں نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبوں کے معاملات میں مداخلت بند کرے۔ سندھ پاکستان کا بانی صوبہ ہے، اگر اسے دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو ملک بھی مستحکم نہیں رہ سکے گا انہوں نے کہا کہ سندھ کی وحدت پر حملے کو پاکستان پر حملہ تصور کرتے ہیں۔ سندھ ہزاروں سال سے سندھی قوم کا تاریخی اور ناقابلِ تقسیم وطن ہے، اس کی وحدت اور جغرافیہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ برداشت نہیں کی جائے گی اور اس کے خلاف ہر سطح پر مزاحمت کی جائے گی
رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی اقتدار کی خاطر وفاقی حکومت کے ہر مبینہ سندھ دشمن فیصلے اور منصوبے میں شریک ہے، تاہم سندھ کے عوام کو گمراہ کرنے کے لیے سندھ دوستی کا دکھاوا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام اس مبینہ دوغلی سیاست کو اچھی طرح سمجھتے ہیں
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت اور ملک کے فیصلہ ساز حلقے سندھ کی زمینوں، پانی، قدرتی وسائل اور وحدت کے ساتھ مبینہ چھیڑ چھاڑ فوری طور پر بند کریں، بصورت دیگر انہیں سندھ کے عوام کی بھرپور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔



