اٹک ریفائنری بند،سڑکوں کی بندش سے ملک میں تیل سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ

اٹک(جانوڈاٹ پی کے)اٹک ریفائنری بند، سڑکوں کی بندش سے ملک میں تیل سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ،، سیکیورٹی اقدامات اور سڑکوں کی بندش کے باعث اٹک ریفائنری نے آپریشن معطل جہلم، اٹک اور کے پی کے آئل فیلڈز کی پیداوار بھی بند ہونے کا اندیشہ، طویل بندش سے ایئرپورٹس اور دفاعی ضروریات کی فیول سپلائی متاثر ہونے کا امکان ہے۔سکیورٹی اقدامات اور ممکنہ غیر ملکی وفود کی آمد کے پیش نظر سڑکوں کی بندش کے باعث اٹک ریفائنری لمیٹڈ نے اپنے آپریشنز معطل کر دیے، جس سے ملک کے وسطی و شمالی علاقوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ریفائنری انتظامیہ کے مطابق آئل ٹینکرز کی آمدورفت اچانک بند ہونے سے نہ صرف خام تیل کی ترسیل رک گئی بلکہ تیار شدہ مصنوعات کی سپلائی بھی متاثر ہوئی ہے۔ اس صورتحال کے باعث ریفائنری کا مرکزی کروڈ ڈسٹلیشن یونٹ، جس کی یومیہ صلاحیت32ہزار400بیرل ہے، عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
اٹک ریفائنری نے اس پیش رفت سے متعلق پاکستان اسٹاک ایکسچینج اور ایس ای سی پی کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔ ٹریفک پابندیوں کے باعث خام تیل کی وصولی میں نمایاں کمی اور پیٹرول، ڈیزل کی ترسیل میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے، جس سے ریفائنری آپریشنز براہ راست متاثر ہوئے۔موٹر اسپرٹ (پیٹرول) اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کے ذخائر میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے جبکہ خام تیل کی سپلائی میں شدید کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں پیداواری عمل روکنا پڑا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بندش کے اثرات جہلم اور اٹک سمیت پنجاب کے مختلف آئل فیلڈز اور خیبرپختونخوا کے بیشتر تیل کے ذخائر پر بھی پڑ سکتے ہیں، جہاں پیداوار معطل ہونے کا خدشہ ہے۔اٹک ریفائنری ملک کے شمالی حصے کی واحد ریفائنری ہے جو پنجاب، خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی ضروریات پوری کرتی ہے۔ریفائنری نے اوگرا اور پیٹرولیم ڈویژن سے فوری مداخلت کی درخواست کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ آئل ٹینکرز کی بلا تعطل آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی اجازت دی جائے، بصورت دیگر طویل بندش سے توانائی کے شعبے میں سنگین بحران پیدا ہو سکتا ہے۔



