ڈاکٹروں کا انوکھا طریقہ علاج،خاتون کی روزانہ ڈائٹ سافٹ ڈرنک پینے سے معدے کی سخت گانٹھ تحلیل ہوگئی

نیویارک(جانوڈاٹ پی کے)امریکی ریاست میساچوسٹس کے ڈاکٹروں نے ایک معمر خاتون کا غیر معمولی طبی کیس رپورٹ کیا ہے جس میں روزانہ ڈیڑھ لیٹر ڈائٹ سافٹ ڈرنک پینے سے معدے میں بننے والی سخت گانٹھ (گیسٹرک بیزور) تحلیل ہو گئی۔

نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق خاتون تقریباً ایک ماہ سے پیٹ کے اوپری حصے اور دائیں جانب شدید جلن اور درد کا شکار تھیں۔ انہوں نے تیزابیت کے لیے عام ادویات بھی استعمال کیں، مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔

ڈاکٹروں کے مطابق خاتون کو ٹائپ 2 ذیابیطس اور موٹاپے کا عارضہ تھا جبکہ وہ وزن کم کرنے کے لیے سیماگلوٹائیڈ نامی دوا استعمال کر رہی تھیں (جو اوزیمپک جیسی جی ایل پی-1) ریسیپٹر ایگونسٹ ادویات کے گروپ سے تعلق رکھتی ہے۔ گزشتہ ایک سال میں ان کا تقریباً 40 پاؤنڈ وزن کم ہوا تھا۔ تاہم، آخری ایک ماہ میں وزن تیزی سے گھٹنے لگا، جس سے ڈاکٹروں کو مسئلے کی وجہ سمجھنے میں مدد ملی۔

ماہرین کے مطابق اس قسم کی ادویات بعض اوقات معدے کے خالی ہونے کے عمل کو سست کر دیتی ہیں، جس کے باعث ہضم نہ ہونے والا مواد جمع ہو کر بیزور نامی سخت گانٹھ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اینڈوسکوپی کے ذریعے ڈاکٹروں نے خاتون کے معدے میں بڑی گانٹھ کی تصدیق کی، جس کے بعد فوری طور پر وزن کم کرنے کی دوا بند کر دی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگرچہ بعض مریضوں کو گانٹھ نکالنے کے لیے سرجری کی ضرورت پڑتی ہے، لیکن ابتدائی مرحلے میں اسے معدے ہی میں تحلیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے بڑی مقدار میں کولا پلانا ایک مؤثر طریقہ سمجھا جاتا ہے۔

ڈاکٹروں نے لکھا کہ دستیاب شواہد، اگرچہ زیادہ تر محدود کیسز اور مشاہدات پر مبنی ہیں، اس بات کی حمایت کرتے ہیں کہ 12 گھنٹوں کے اندر تقریباً 3 لیٹر ڈائٹ سافٹ ڈرنک منہ کے ذریعے یا ناک کے ذریعے معدے تک پہنچائی جائے تاکہ بیزور کو تحلیل کیا جا سکے۔

تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس میں سافٹ ڈرنک کی تیزابیت، کاربونیشن یا کوئی اور عنصر بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

چونکہ خاتون ذیابیطس کی مریضہ تھیں، اس لیے ڈاکٹروں نے انہیں عام سافٹ ڈرنک کے بجائے ڈائٹ سافٹ ڈرنک پینے کا مشورہ دیا۔ خاتون کو کاربونیٹڈ مشروبات پسند نہیں تھے، اس لیے تجویز کردہ 3 لیٹر کی مقدار کم کر کے روزانہ ڈیڑھ لیٹر کر دی گئی۔

رپورٹ کے مطابق علاج کے دوسرے روز خاتون نے معدے میں ہلکی سی کھنچاؤ کی کیفیت محسوس کی، جس کے فوراً بعد متلی اور تکلیف ختم ہو گئی۔

بعد ازاں دوبارہ کی گئی اینڈوسکوپی سے تصدیق ہوئی کہ معدے میں موجود سخت گانٹھ مکمل طور پر تحلیل ہو چکی تھی، جس سے سرجری کی ضرورت بھی پیش نہ آئی۔

مزید خبریں

Back to top button