امریکی دھمکیوں میں مذاکرات ممکن نہیں، ایران کا واشنگٹن کو دوٹوک پیغام

تہران(ویب ڈیسک) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہا تو حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات کا آغاز ممکن نہیں ہوگا۔

سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ لاکھوں ایرانی شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے متحد ہوئے، جو قومی یکجہتی اور استقامت کا مظہر ہے۔

انہوں نے کہا کہ نہ ایرانی عوام اور نہ ہی ملک کی مسلح افواج کسی قسم کی دھمکی سے مرعوب ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ واقعی مذاکرات چاہتا ہے تو اسے اپنی دھمکی آمیز پالیسی ترک کرتے ہوئے اپنے دستخط اور وعدوں کی پاسداری کرنا ہوگی۔

عباس عراقچی نے مزید کہا کہ امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت واضح ہے اور اس پر عملدرآمد ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔

دوسری جانب ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان امریکی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہیں جو ایرانی عوام کو نشانہ بناتی ہیں۔

انہوں نے صدر ٹرمپ کو مشورہ دیا کہ ایران کے عوام سے احترام کے ساتھ بات کریں، بصورت دیگر ایران بھی بھرپور انداز میں جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

محمد باقر ذوالقدر کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی ایران کو دھمکیاں دی گئیں، تاہم ان کا نتیجہ امریکہ کے لیے ناکامی، مایوسی اور بالآخر مذاکرات اور جنگ بندی کی کوششوں کی صورت میں نکلا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر ایران معاہدہ کر لیتا ہے تو بہتر، بصورت دیگر امریکہ سخت کارروائی کرے گا۔

مزید خبریں

Back to top button