لاہور مبینہ اجتماعی زیادتی کیس، غیر ملکی خواتین نے مبینہ اغوا اور تشدد کی تفصیلات بیان کر دیں

لاہور(جانوڈاٹ پی کے)لاہور کے علاقے ڈیفنس میں مبینہ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی غیر ملکی خواتین کے مجسٹریٹ کو دیئے گئے بیان کی تفصیلات سامنے آ گئیں ہیں جس میں ان کا کہناتھا کہ مرکزی ملزم سے پہلی ملاقات کرپٹو کرنسی ایونٹ میں سنگا پور میں ہوئی ،  پاکستان آمد پر لاہور میں ایک گھر میں لے کر گئے ۔

خاتون کا بیان میں کہناتھا کہ وہاں موجود لوگ کانچ دکھا کر اس کے ذریعے ٹکڑے کرنے کی دھمکی دیتے رہے، میرے نمبر سے تمام کانٹیکٹس کو رقم کے لیے میسج بھجوائے مگر کسی نے جواب نہ دیا، ملزم نے آخری روز کہا کہ ساری رقم میں نے حاصل کر لی ہے اور اب تم آزاد ہو،ہمیں کار میں بٹھایا اور گھر سے باہر لے آیا۔

خاتون نے بتایا کہ اس نے کار میں پاسپورٹ بھی ہمارے حوالے کر دیے، وہ ہمیں ائیر پورٹ لے کر جا رہا تھے،وہ مسلسل کسی سے بات کر رہا تھا، دوسری جانب سے اسے کہا گیا کہ باس کی ہدایات تو کچھ اور ہیں، اسی دوران اس کی گاڑی ٹکرائی تو میں نے اور اسٹیفنی نے گاڑی سے باہر چھلانگ لگا دی۔

بیان میں غیر ملکی خاتون کا کہناتھا کہ ہم نے باہر نکلتے ہی مدد کے لیے چیخنا شروع کردیا اور مکینک کی دکان میں پنا لی، وہاں موجود لوگوں نے ٹریفک پولیس اہلکار کو بلوالیا، اسی دوران ایک اور پولیس کی گاڑی آئی جس میں خاتون اہلکار بھی موجود تھی، پولیس کے آنے کے بعد ہم کو اپنا آپ محفوظ محسوس ہوا۔

مزید خبریں

Back to top button