ڈیپلو کے ریٹائرڈ ڈاکٹر کیساتھ64لاکھ روپے کا مبینہ فراڈ،انصاف اور تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کردیا

تھرپارکر (رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) ڈیپلو شہر کے رہائشی، حال مقیم حیدرآباد، ریٹائرڈ ڈاکٹر کرشن لال نے الزام عائد کیا ہے کہ حیدرآباد کے رہائشی محمد قاسم سومرو نے پراپرٹی کے لین دین کے دوران ان کے ساتھ مبینہ طور پر 64 لاکھ روپے کا فراڈ کیا۔ انہوں نے حکام سے انصاف، رقم کی واپسی اور اپنی جان کے تحفظ کی اپیل کی ہے۔ ڈاکٹر کرشن لال نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پراپرٹی کے معاملے میں محمد قاسم سومرو کو 64 لاکھ روپے ادا کیے تھے، جس کے ثبوت کے طور پر ان کے پاس اسٹامپ پیپر، چیکس اور دیگر متعلقہ دستاویزات موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ تین برسوں سے انہیں مختلف بہانوں اور یقین دہانیوں پر ٹالا جاتا رہا، مگر اب ملزم رقم واپس کرنے سے انکار کر رہا ہے۔انہوں نے مزید الزام لگایا کہ ملزم انہیں جھوٹے مقدمات میں پھنسانے، جان سے مارنے اور مذہبی معاملے کو ہوا دینے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ ڈاکٹر کرشن لال کے مطابق انہیں کہا گیا کہ "میں ہندو مسلم فساد کروا دوں گا، تم اقلیت سے تعلق رکھتے ہو، خاموش رہو۔” ڈاکٹر کرشن لال نے کہا کہ 64 لاکھ روپے ان کی پنشن اور پوری زندگی کی جمع پونجی تھی، جو انہوں نے اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے جمع کی تھی، مگر وہ مبینہ دھوکہ دہی کا شکار ہو گئے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس معاملے کو مذہبی رنگ دے کر ان کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ انہوں نے وفاقی اور سندھ حکومت، پولیس اور متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، ان کی رقم واپس دلائی جائے، ملوث ملزم کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور انہیں مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔

مزید خبریں

Back to top button