سرحد پار جنگ کا باقاعدہ آغاز؛ پاکستان کا چین کی ثالثی پر دو ٹوک موقف، عمران خان اور بہنوں کے درمیان ملاقات کا ڈیڈ لاک ختم!

لاہور: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے) پاکستان اور افغانستان کے مابین کھلی جنگ کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے جس کے بعد خطے کی سیاست اور سکیورٹی صورتحال میں شدید زلزلہ آ گیا ہے۔ کراچی میں رینجرز ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے دہشت گردی کے حملے کے بعد گرفتار افغان دہشت گرد کے سنسنی خیز اعترافات نے کچے چٹھے کھول دیے، جس پر پاکستان نے افغان حدود کے اندر کنڑ، پکتیا اور پکتیکا میں داخل ہو کر ہلاکت خیز سرجیکل سٹرائیکس کیں۔ ان حملوں میں کراچی حملے کے ماسٹر مائنڈ کمانڈر عمر فاروق سمیت جماعت الاحرار کے 10 چوٹی کے دہشت گرد کمانڈرز کو جہنم واصل کر دیا گیا۔ اس عبرتناک کاروائی پر بوکھلاہٹ کا شکار افغان طالبان ریجیم کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان کو سرعام زمینی کاروائی اور دہشت گردی کی کھلی دھمکی دے دی ہے۔ پاکستان نے اس نازک صورتحال پر ثالثی کی کوشش کرنے والے دوست ملک چین کو بھی دو ٹوک اور واشگاف الفاظ میں پیغام بھیج دیا ہے کہ اب دھوکہ بازوں کو کوئی نہیں بچائے گا اور بھرپور شدت سے حساب لیا جائے گا۔ دوسری طرف افغان طالبان ابھی گرج چمک ہی رہے تھے کہ خود ان کا دارالحکومت کابل شدید ترین بم دھماکے سے لرز اٹھا جہاں پروان کے علاقے میں اسلحہ ڈپو اڑنے سے آسمان تک آگ کے شعلے بلند ہو گئے، جس نے طالبان کے اپنے اقتدار پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اسی دوران ملکی سیاست سے بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے جہاں اڈیالہ جیل میں گزشتہ سات ماہ سے جاری ڈیڈ لاک ختم ہو گیا ہے اور برف پگھلنے کے بعد آج منگل کے دن عمران خان سے ان کی بہنوں نورین خانم یا ڈاکٹر عظمیٰ خان کی ملاقات کے قوی امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ اس تمام سنسنی خیز جنگی صورتحال اور اڈیالہ جیل کی اندرونی کہانی کا مکمل احوال جاننے کے لیے شکیل ملک کا یہ وی لاگ اس لنک پر کلک کر کے دیکھیں:




