غزہ میں اسرائیل جان بوجھ کر بچوں کو قتل کر رہا ہے،اقوام متحدہ کی رپورٹ نےرُلادیا

نیویارک(جانوڈاٹ پی کے)اقوام متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن نے تازہ رپورٹ میں کہا کہ اسرائیلی افواج غزہ میں فلسطینی بچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنا رہی ہیں اور یہ عمل فلسطینی نسل کشی کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ برس کمیشن نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کا مرتکب ہوا جبکہ نئی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
تازہ رپورٹ میں شواہد کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں فلسطینی بچوں کی غیر معمولی پیمانے پر اموات ہوئیں وہ شدید زخمی ہوئے اور ذہنی صدمے کا شکار ہوئے۔اقوام متحدہ کے آزاد کمیشن کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2025 میں جنگ بندی نافذ ہونے کے باوجود فلسطینی بچوں کی شہادتیں اور شدید زخمی ہونے کے واقعات تاحال جاری رہے۔کمیشن کے چیئرمین سرینواسن مرلی دھر نے کہا کہ اسرائیل نے نہ صرف جنگ بندی کا احترام نہیں کیا بلکہ بین الاقوامی قانون کے تحت فلسطینی بچوں کے تحفظ کی اپنی ذمہ داری بھی پوری نہیں کی۔کمیشن کا کہنا ہے کہ بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ میں فلسطینی عوام کی نسل کشی کی منصوبہ بندی کے ساتھ کارروائیاں کر رہی ہے۔



