اوکاڑہ ڈی ایچ کیو میں مبینہ غفلت، خراب ذخیرہ شدہ خون لگنے سے حاملہ خاتون جاں بحق

اوکاڑہ (رپورٹ: وحید آرائیں/جانوڈاٹ پی کے) ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر (ڈی ایچ کیو) ہسپتال اوکاڑہ کے گائنی وارڈ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں حاملہ خاتون گلشن بی بی خون کی ڈرپ لگائے جانے کے بعد مبینہ ری ایکشن کے باعث جاں بحق ہوگئیں۔
ذرائع کے مطابق خاتون کو فراہم کیا گیا خون ہسپتال کے بلڈ بینک سے جاری کیا گیا تھا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق بلڈ بینک میں خون محفوظ رکھنے والی کیبن خراب ہو چکی تھی، جس کے باعث خون مطلوبہ درجہ حرارت پر محفوظ نہیں رکھا جا سکا۔ خون کو محفوظ رکھنے کے لیے 2 سے 6 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت ضروری ہوتا ہے، تاہم متعلقہ کیبن کا درجہ حرارت 19 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بلڈ بینک کے عملے نے 20 جون کو کیبن کی خرابی سے متعلق تحریری طور پر ایم ایس کو آگاہ کر دیا تھا، جس پر مرمت کے احکامات بھی جاری کیے گئے، تاہم تین روز گزرنے کے باوجود مسئلہ مکمل طور پر حل نہ ہو سکا۔ اس کے باوجود مبینہ طور پر اسی کیبن میں موجود خون مریضہ کو فراہم کر دیا گیا، جس کے بعد ری ایکشن ہوا اور خاتون جانبر نہ ہو سکیں۔
محکمہ صحت کے ایک افسر کے مطابق واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور اگر کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی اہلکار کے ساتھ رعایت نہیں برتی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ کیبن میں اس وقت بھی دو درجن سے زائد خون کے بیگز موجود ہیں، جس پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ واقعے کے بعد ہسپتال انتظامیہ اور محکمہ صحت کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں جبکہ لواحقین نے ذمہ داران کے خلاف کارروائی اور انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔



