فنانس بل 2026 قومی اسمبلی میں پیش، اپوزیشن کی ترامیم پر بحث شروع

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)نئے مالی سال کے لیے فنانس بل 2026 کا حتمی مسودہ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا، جس کے بعد بل کی مرحلہ وار منظوری کا عمل شروع ہو گیا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے فنانس بل منظوری کے لیے ایوان میں پیش کیا، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے مجوزہ ترامیم بھی زیر غور لائی جا رہی ہیں۔
اجلاس کے دوران وزیر خزانہ نے رکن قومی اسمبلی عالیہ کامران کی جانب سے پیش کی گئی بعض ترامیم کی مخالفت کی، تاہم سپیکر قومی اسمبلی نے اپوزیشن ارکان کو ترامیم پر مختصر بحث کی اجازت دے دی۔
بحث کے دوران عالیہ کامران نے مؤقف اختیار کیا کہ بجٹ عوامی مشاورت کے بغیر تیار کیا گیا ہے اور اس میں عام شہریوں کی رائے شامل نہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ پٹرولیم لیوی کی زیادہ سے زیادہ حد 50 روپے مقرر کی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کاربن لیوی کی شرح 5 روپے کے بجائے اڑھائی روپے رکھی جائے، جبکہ سیلز ٹیکس کو 18 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کیا جائے تاکہ عوام پر بوجھ کم ہو سکے۔
عالیہ کامران نے حکومت پر زور دیا کہ عام آدمی کے بجائے اشرافیہ پر زیادہ ٹیکس عائد کیا جائے اور محصولات کے نظام میں توازن پیدا کیا جائے۔
قومی اسمبلی میں فنانس بل پر بحث اور ترامیم کی منظوری یا مسترد ہونے کا عمل آئندہ مراحل میں جاری رہے گا۔



