بلاول کی ن لیگ پر کاری ضرب، شہباز شریف کا دورۂ سویٹزرلینڈ کیوں منسوخ ہوا؟ ہلاکت خیز حقائق

اسلام آباد: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے) ملک کی سیاسی اور سفارتی تاریخ میں ایک ایسا سنسنی خیز موڑ آگیا ہے جس نے اقتدار کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کر دیا ہے۔ وفاقی بجٹ کے موقع پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت پر کاری ضرب لگاتے ہوئے ایک بالکل الگ اور جارحانہ جیو-پولیٹیکل لائن لے لی ہے جس سے ‘سیم پیج’ کی کہانی کا خاتمہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ بلاول بھٹو نے مسلم لیگ (ن) کے روایتی ترقیاتی دعووں کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ اگر ماضی میں سی پیک کے مغربی روٹ پر توجہ دی جاتی تو گوادر اکیلا ہی ملک بھر کے ہر شہر میں اورنج لائن ٹرینیں چلا رہا ہوتا۔ انہوں نے گلگت بلتستان اور کشمیر کے معاملے پر بھی موجودہ حکومتی پالیسی کے برعکس یہ سنسنی خیز مطالبہ داغ دیا کہ جب تک استصوابِ رائے نہیں ہوتا، تب تک ان علاقوں کے لوگوں کو قومی اسمبلی میں باقاعدہ نمائندگی اور سفیر کا درجہ دیا جائے، جبکہ انہوں نے دھرنے اور بلیک میلنگ کے ذریعے ریاست پر دباؤ ڈالنے والے عناصر کے خلاف سخت ترین فوجی کارروائی کا بھی الٹی میٹم دیا ہے۔ دوسری جانب، وزیرِ اعظم شہباز شریف کا اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ دورۂ سویٹزرلینڈ آخری لمحات میں اچانک کینسل ہونے کی پسِ پردہ کہانی بھی بے نقاب ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق، پاک-امریکہ-ایران تاریخی ‘اسلام آباد معاہدہ’ جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے الیکٹرانک دستخطوں سے مکمل ہو چکا ہے، جس میں تہران سے صدر پزیشکیان اور فرانس سے صدر ٹرمپ نے ڈیجیٹل دستخط کیے، جبکہ پاکستان نے بطور ثالث اپنے دستخط ثبت کر دیے ہیں جس کی وجہ سے جنیوا میں کسی علامتی تقریب کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی۔
سیاسی جوڑ توڑ اور پاکستان کو ملنے والی اس عظیم سفارتی کامیابی کی مکمل انڈر دی ٹیبل تفصیلات جاننے کے لیے سینیئر صحافی گوہر بٹ کا یہ وی لاگ مکمل دیکھیں:




