دنیا کی بدصورت ترین شارک منظر عام پر آگئی

ٹونگا ٹرینچ (ویب ڈیسک) سائنسدانوں نے سمندر کی گہرائی میں رہنے والی انتہائی نایاب اور عجیب و غریب شکل کی گوبلن شارک کی نئی ویڈیو ریکارڈ کر کے اہم سائنسی پیش رفت حاصل کر لی ہے۔
یہ شارک اپنی غیر معمولی ساخت کی وجہ سے دنیا کی “بدصورت ترین شارک” بھی کہی جاتی ہے، جس کی لمبی ناک اور پھیلے ہوئے جبڑے اسے کسی ہارر فلم کے کردار جیسا منظر دیتے ہیں۔
گوبلن شارک کو ایک “لونگ فوسل” بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ نسل تقریباً 12 کروڑ 50 لاکھ سال سے زمین پر موجود ہے اور آج بھی اپنی ابتدائی شکل کے قریب ہی سمجھی جاتی ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق عام حالت میں اس شارک کا منہ اندر کی طرف ہوتا ہے، تاہم شکار کے وقت یہ اپنے جبڑے تیزی سے آگے نکال کر گولی کی رفتار سے شکار کو جکڑ لیتی ہے۔
یہ نایاب مخلوق عام طور پر سمندر کی انتہائی گہرائیوں میں، تقریباً 2 ہزار میٹر (6 ہزار 500 فٹ) یا اس سے بھی نیچے رہتی ہے، جس کی وجہ سے اس کا مشاہدہ انتہائی مشکل ہوتا ہے۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق اس شارک کو پہلے بھی محدود مواقع پر دیکھا گیا تھا، تاہم تازہ ویڈیو نے اس کی حرکات اور رویے کو سمجھنے میں نئی معلومات فراہم کی ہیں، جو حال ہی میں جرنل آف فش بائیولوجی میں شائع ہوئی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت گہرے سمندری حیات کے بارے میں ہماری معلومات کو مزید وسیع کرے گی۔



