حزب اللہ کیخلاف لڑائی میں اسرائیل معصوم افراد کو نشانہ بنا رہا ہے، اسے اب یہ لڑائی شام کے حوالے کردینی چاہیے: ٹرمپ

واشنگٹن(جانوڈاٹ پی کے)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی کارروائیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جنگ شام کے حوالے کر دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تنازع بہت طویل ہو چکا ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل بہت زیادہ معصوم افراد کو ہلاک کر رہا ہے۔
جی سیون اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’اسرائیل بہت عرصے سے حزب اللہ سے لڑ رہا ہے اور بہت زیادہ لوگ مارے جا رہے ہیں۔ اور آپ کو ہر بار کسی ایک شخص کو تلاش کرنے کے لیے پوری اپارٹمنٹ بلڈنگ گرانے کی ضرورت نہیں ہوتی، کیونکہ ان عمارتوں میں بہت سے لوگ ہوتے ہیں اور وہ سب حزب اللہ کے نہیں ہوتے‘۔
بعد ازاں ٹرمپ نے کہا کہ ’میں لبنان اور حزب اللہ کے معاملے میں اسرائیل کے طریقہ کار سے خوش نہیں ہوں۔ انہیں یہ کام زیادہ تیزی سے مکمل کر لینا چاہیے تھا لیکن یہ مسلسل چلتا ہی جا رہا ہے اور جب ایسا ہوتا ہے تو یہ بڑے معاہدے پر منفی اثر ڈالتا ہے، اور وہ معاہدہ ایران کے ساتھ ہے‘۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ اتوار کو بیروت پر اسرائیلی حملے سے ناخوش تھے، جو امریکا اور ایران کے درمیان عبوری امن معاہدے کے اعلان سے کچھ دیر پہلے کیا گیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ’مجھے یہ بات پسند نہیں آئی کہ جب معاہدے پر دستخط کرنے میں صرف 2 گھنٹے کا وقت رہ گیا تھا تب بیروت پر حملہ کیا گیا‘۔
ٹرمپ نے اسرائیل کو تجویز دی کہ وہ لبنان میں حزب اللہ سے نمٹنے کی ذمہ داری شام کے حوالے کردے۔
فرانس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ جو شخص اس وقت شام کو چلا رہا ہے، وہ وہی ہے جسے میں نے وہاں لے کر آیا، وہ شام کے حوالے سے بہت ذمہ داری کا مظاہرہ کررہے ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ شامی صدر احمد الشرع ’ترک صدر رجب طیب اردوان اور کچھ دیگر کے ساتھ مل کر حالات کو سنبھالنے میں حیرت انگیز کام کر رہے ہیں‘۔
ٹرمپ نے کہا کہ ’میں نے اسرائیل کو مشورہ دیا کہ شام کو حزب اللہ سے نمٹنے دیا جائے کیونکہ سچ پوچھیں تو میرا خیال ہے کہ وہ یہ کام بہتر طریقے سے کر سکتے ہیں۔



