حکومت کا بڑا اقدام: فنانس بل 2026 کی خامیاں دور کرنے کیلئے دو اعلیٰ سطحی کمیٹیاں قائم

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال-27 2026 کے وفاقی بجٹ(فنانس بل 2026) میں پائے جانے والے کاروباری اور تکنیکی نوعیت کے ابہام دور کرنے کیلئے دو اناملیز کمیٹیاں قائم کردی ہیں کاروباری نوعیت کے ابہام دور کرنے کیلئے پاکستان بزنس کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جاوید قریشی کی سربراہی میں جبکہ تکنیکی نوعیت کے ابہام دور کرنے کیلئے وف چارٹرڈ اکاوٴنٹنٹ محمد رضا کی سربراہی میں اناملی کمیٹی قائم کی گئی ہے، دونوں کمیٹیاں فنانس بل میں پائے جانے والے ابہام دور کرنے کیلئے تجاویز اور نشاندہی کردہ خامیاں 20 جون 2026 تک وزارتِ خزانہ کے ٹیکس پالیسی آفس میں جمع کروائیں گی۔
اس حوالے سے وزارت خزانہ نے باضابطہ طور پر نوٹیفکیشن جاری کردیے ہیں پہلے نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ و محصولات کی ہدایت پر مالیاتی بل 2026 میں کاروباری برادری سے متعلق پائے جانے والے ابہامات اور خامیوں کی نشاندہی اور ان کے ازالے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اناملی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کا مقصد کاروباری شعبے کی جانب سے سامنے آنے والے تحفظات اور تجاویز کا جائزہ لے کر قابلِ عمل سفارشات مرتب کرنا ہے تاکہ مالیاتی بل میں موجود کاروباری نوعیت کی خامیوں کو دور کیا جا سکے کمیٹی کی سربراہی پاکستان بزنس کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جاوید قریشی کریں گے جبکہ ٹیکس پالیسی آفس کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر نجیب احمد میمن، ایف بی آر کے ممبر اسٹریٹجک ٹرانسفارمیشن حمید عتیق سرور، ممبر کسٹمز پالیسی اشہاد جاوید اور ممبر ان لینڈ ریونیو پالیسی سجاد تسلیم اعظم شریک سربراہان کے طور پر ذمہ داریاں انجام دیں گے ۔
کمیٹی میں ملک کی نمایاں کاروباری اور تجارتی تنظیموں کے نمائندوں کو بھی شامل کیا گیا ہے جن میں ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ، لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمٰن، کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر ریحان حنیف، بینک الفلاح کے صدر یوسف حسین، راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے صدر عثمان شوکت، سیالکوٹ چیمبر کے صدر سید احتشام مظہر، پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین سہیل پاشا، او آئی سی سی آئی کے سیکریٹری جنرل ایم عبدالعلیم اور پاکستان بزنس کونسل کے امان گھانچی شامل ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کاروباری برادری کی جانب سے موصول ہونے والی تجاویز اور نشاندہی کردہ خامیوں کا جائزہ لے گی اور ان کے حل کے لیے ٹیکس پالیسی آفس کو سفارشات پیش کرے گی۔ ضرورت پڑنے پر کمیٹی باہمی اتفاقِ رائے سے مزید ارکان کو بھی شامل کر سکے گی۔
وزارتِ خزانہ نے متعلقہ فریقین اور کاروباری اداروں سے کہا ہے کہ وہ اپنی تجاویز اور نشاندہی کردہ خامیاں 20 جون 2026 تک ٹیکس پالیسی آفس، وزارتِ خزانہ اسلام آباد کو ارسال کریں تاکہ ان پر بروقت غور کیا جا سکے۔
دوسرے نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ و محصولات نے مالیاتی بل 2026 میں موجود تکنیکی نوعیت کی خامیوں اور ابہامات کی نشاندہی اور ان کے ازالے کے لیے ایک خصوصی انوملی کمیٹی تشکیل دے دی ہے ۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کا مقصد کاروباری برادری اور دیگر متعلقہ حلقوں کی جانب سے سامنے آنے والی تکنیکی نوعیت کی تجاویز اور اعتراضات کا جائزہ لے کر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو مناسب سفارشات فراہم کرنا ہے کمیٹی کی سربراہی معروف چارٹرڈ اکاوٴنٹنٹ محمد رضا کریں گے جبکہ ڈاکٹر نجیب احمد میمن، حامد عتیق سرور، سجاد تسلیم اعظم اور اشہاد جاوید شریک سربراہان کے طور پر خدمات انجام دیں گے۔
کمیٹی میں ٹیکس، کسٹمز، تجارت اور کاروباری شعبے سے تعلق رکھنے والے ممتاز ماہرین، چارٹرڈ اکاوٴنٹنٹس، ٹیکس بار ایسوسی ایشنز کے نمائندگان اور قومی ٹیرف کمیشن کے حکام کو بھی شامل کیا گیا ہے نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کاروباری اور ٹیکس سے متعلق تکنیکی مسائل کا جائزہ لے گی اور ان کے حل کے لیے سفارشات مرتب کرے گی۔
ضرورت پڑنے پر کمیٹی متفقہ رائے سے مزید ارکان کو بھی شامل کر سکے گی وزارتِ خزانہ نے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز، کاروباری تنظیموں اور ٹیکس ماہرین سے کہا ہے کہ وہ مالیاتی بل 2026 سے متعلق اپنی تکنیکی نوعیت کی تجاویز اور نشاندہی کردہ خامیاں 20 جون 2026 تک وزارتِ خزانہ کے ٹیکس پالیسی آفس میں جمع کروا سکتے ہیں تاکہ انہیں کمیٹی کے غور و خوض میں شامل کیا جا سکے۔



