کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کا مطلب18ویں آئینی ترمیم کو رول بیک کرنا ہوگا،آئین میں تبدیلی کیلئے دوتہائی اکثریت چاہئے،رضا ربانی

پیپلزپارٹی کےزیراہتمام اٹھارویں ترمیم اورصوبائی خود مختاری پرآرٹس کونسل میں سیمینارکا انعقاد کیا گیا

کراچی(جانوڈاٹ پی کے)پیپلزپارٹی کےزیراہتمام اٹھارویں ترمیم اورصوبائی خود مختاری پرآرٹس کونسل میں سیمینارکا انعقاد کیا گیا۔پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما رضا ربانی اور سینئر لیڈر نثار کھوڑوں نے سیمینارمیں خصوصی شرکت کی۔ضمیر گھمرو،نورلہدیٰ شاہ،وسعت اللہ خان فاضل جمیلی شہاب سرکی اور خواتین رہنماؤں کی بڑی تعداد بھی شریک ہوئی۔

جو لوگ کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی بات کرتے ہیں وہ وفاق اور صوبے میں دو تہائی اکثریت لائیں،رضاربانی

سابق چیئرمین سینیٹ سینیٹررضاربانی نے خطاب میں کہا کہ جو تنقید پیپلز پارٹی پر کی گئی ہےپیپلز پارٹی کو اتنا کریڈٹ تو دیں کے وہ اپنے اوپر تنقید سہتی ہے،تاریخی اعتبار سے کراچی1729کے اندر چھوٹی بستی تھی،کلہوڑواورتالپوردورمیں کراچی سندھ کے ساتھ تھا،ایسٹ انڈیا کمپنی نے کراچی پر کنٹرول کیا۔کراچی سندھ کا دارالخلافہ تھا۔1948میں گورنر جنرل نے کراچی کو وفاق کا دارالخلافہ قرار دیا۔ 1955میں کراچی کو ویسٹ پاکستان کا حصہ بنایا گیا۔

ون یونٹ کے خاتمے کے ساتھ کراچی سندھ کا دارلخلافہ بنا،تاریخی طور پر کراچی نہ سندھ سے الگ ہے نہ سندھ سے الگ ہوسکتا ہے۔ آئین کے اندر اگر تبدیلی لانی ہےتو پارلیمان کی دو تہائی اکثریت چاہئے،صوبے کی بھی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت چاہئے،جو لوگ کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی بات کرتے ہیں وہ وفاق اور صوبے میں دو تہائی اکثریت لائیں ،کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کا مطلب اٹھارویں آئینی ترمیم کو رول بیک کرنا ہوگا۔

اسی طرح گوادر کے لیئے بھی وہ قانون لاگو ہوتا ہے،گوادر بلوچستان کا حصہ ہے۔گوادر کو وفاق کو دینے کی بات کرتے ہیں تو سی پیک کی آڑ میں گوادر کے ساتھ کھیل کھیلا،بلوچستان کے لوگ اس بات میں حق بجانب ہیں کہ زمین کس طرح الاٹ کی گئیں۔

گوادر کو وفاق حوالے کرنے کا مطلب ہے گوادر کو نوکریاں نہیں ملیں گی۔گوادر میں پہلے ہی مزاحمت ہو رہی ہے،گوادر وفاق کوملا تو تو وہاں باہر سے لوگ آئیں گے،گوادر کی ڈیمو گرافی تبدیل ہوگی۔

آج پھر سندھ میں پانی کی قلت ہے،ہم آواز بلند کرینگے،نثار کھوڑو

پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نثار کھوڑو  نے کہا کہ جنرل ضیاء دور میں سیاسی پارٹیوں کو ختم کیا گیا،وڈیراغلط لفظ نہیں ہے،جنرل ضیاء نے وڈیروں کو آگے کیا،ہم نے ڈکٹیٹر سے منوایا کہ کالا باغ ڈیم نہیں بنے گا،یہ سندھ کے عوام کی جہدوجہد تھی،ہم جنرل مشرف کے خلاف تھے،ہم کینالز کے بھی مخالف تھے،سب سے پہلے ہم نے آل پارٹیز کانفرنس بلوائی تھی،ہم نے بھی کینالز کے خلاف جلسے کیئے،کینالز ختم کرنے کا اعلان سی سی آئی میں ہوا،سی سی آئی نے مانا کہ صوبے راضی ہونے کے بغیر کینال نہیں بنیں گے

آج پھرسندھ میں پانی کی قلت ہے،پانی کی قلت کے خلاف آواز بلند کریں گے۔این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ کم نہیں کیا جا سکتا ہے۔صوبوں کو57حصہ دینے کا مطالبہ شہباز شریف نے کیا تھا جو کہ وزیر اعلی پنجاب تھے۔

سینئر صحافی مظہر عباس نے کہا کہ بے نظیر بھٹو نے کہا کہ میں1988میں حکومت لینے کے حق میں نہیں تھا،پارٹی کی اکثریت کا خیال تھا کہ اقتدار لینا چاہئے۔اگر پیپلز پارٹی کو فکر ہے کہ سندھ تقسیم ہوگا تو پی پی وفاق میں کیوں ہے

نورلہدی شاہ نے کہا کہ ہمارا جو جی چاہے ہم پی پی کے خلاف بولتے ہیں،پی پی یہ باتیں سنتے ہیں،سوشل میڈیا پر ہمیں گالیاں نہیں ملتی ہیں۔

کچھ بقراتوں کا خیال ہے کہ 22 یونٹ بنائے جائیں،فاضل جمیلی

فاضل جمیلی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کچھ بقراتوں کا خیال ہے کہ22یونٹ بنائے جائیں،کچھ کراچی اور گوادر  کو وفاق کے حوالے کرنے کی بات کرتے ہیں،وہ وفاق جس سے4صوبے نہیں چل رہے وہ22یونٹ کیسے چلائے گی۔ملک میں ون یونٹ لاگو کرنے کی بات ہو رہی ہے

یپلز پارٹی پارلیمنٹ میں ووٹ نہیں کرے گی تو کوئی قانون کیسے بن سکتا ہے،وسعت اللہ خان

سنئر تجزیہ کاروسعت اللہ خان  نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسلام آباد صرف پنڈی کو سنبھال لے تو سارا مسئلہ ہی حل ہو جائے ،وفاق کو1700ارب روپے درکار ہے۔ صوبے اگلے مالی سال190ارب روپے کی کٹوتی کریں گے،این ایف سی ایوارڈ میں57فیصد صوبوں کو ملے گا،این ایف سی ایوارڈ میں غیراعلانیہ کٹوتی کا فیصلہ ہوا ہے،کوئی ترمیم تب تک منظور نہیں ہو سکتی جب تک پارلیمنٹ دو تہائی اکثریت سے منظور نہیں کرتی،پیپلز پارٹی پارلیمنٹ میں ووٹ نہیں کرے گی تو کوئی قانون کیسے بن سکتا ہے۔

کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں1948سے ہو رہی ہیں،ضمیرگھمرو

سینیٹرضمیر گھمرونے سیمینار سے خطا ب میں کہا کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں 1948 سے ہو رہی ہیں۔وفاق نے کبھی کراچی سے ہاتھ نہیں نکالا،کراچی پر ون یونٹ مسلط کیا گیا تھا۔ذوالفقار علی بھٹو نے آئین بنا کر صوبوں کو خود مختاری دی۔شہید بھٹو نے آئین میں ون یونٹ کو ختم کیا گیا۔کراچی میں جماعت اسلامی کے میئر وفاق کے نمائندے تھے،اس کے بعد لسانی بنیادوں پر میئر آئے،2020تک وفاق کے لوگ میئر بن کر آئے۔

قرارداد پاکستان میں واضح ہے کہ صوبے وفاق کے خود مختار یونٹ ہوگا،شہاب سرکی

پاکستان1940کی قرارداد کے تحت بنا،قرارداد پاکستان میں واضح ہے کہ صوبے وفاق کے خود مختار یونٹ ہوگا،اٹھارویں ترمیم میں1940کی قراداد کی شکل ہے۔کراچی کی بات صرف کراچی سے پیسے نکالنے کے لیئے کی جا رہی۔

مزید خبریں

Back to top button