دوپہر کے اوقات میں سولر سے بھی کم نرخ پر بجلی فروخت ہو گی، اویس لغاری

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ اگرچہ فکسڈ چارجز میں اضافہ ہوا ہے، تاہم مجموعی طور پر عوام کے بجلی کے بلوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اگر سبسڈی کا سلسلہ جاری رہا تو 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک بجلی کی قیمت میں مزید کمی ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں ایسے اوقات بھی آئیں گے جب دوپہر کے وقت سولر کے ذریعے پیدا ہونے والی بجلی روایتی ذرائع سے بھی سستی ہو گی۔

اویس لغاری نے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے اعداد و شمار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مختلف ادوار میں بجلی کی طلب اور منصوبہ بندی سے متعلق پیش کیے گئے اعداد و شمار میں فرق پایا جاتا ہے، جبکہ نیٹ میٹرنگ سے متعلق بعض فگرز کو بھی مجموعی حساب میں شامل کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جولائی 2025 سے اب تک ملک میں بجلی کی کھپت میں 7 سے 9 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کی تفصیلات نیپرا کے ڈیٹا میں موجود ہیں۔ ان کے مطابق وزارت میں آنے کے بعد غیر ضروری 9 ہزار میگاواٹ منصوبوں کو دوبارہ جانچا گیا ہے جبکہ مجموعی طور پر 9 ہزار میگاواٹ کے منصوبے زیر غور ہیں جن میں داسو، بھاشا اور 1200 میگاواٹ کا نیوکلیئر پلانٹ بھی شامل ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاور ڈویژن کے اخراجات میں نمایاں کمی کی گئی ہے جبکہ ڈسکوز کے نقصانات 586 ارب روپے سے کم کر کے 300 ارب روپے تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے اب تک تقریباً 600 ارب روپے کے مالی وسائل کی بچت کی ہے، جو ماضی میں غیر مؤثر اخراجات اور خسارے کی صورت میں استعمال ہو رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سبسڈی کے تسلسل سے عوام کو بجلی کے نرخوں میں مزید ریلیف دیا جا سکتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button