ابنائے ہرمز پر ایران-عمان کا قبضہ؛ امریکہ کا مڈل ایسٹ سے بوریا بستر گول!

اسلام آباد: خصوصی گفتگو (جانو ڈاٹ پی کے)۔ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی بالادستی اور ‘ریجیم چینج’ کے خواب چکنا چور ہو گئے ہیں اور خطے میں ایک بالکل نیا عالمی نظام (New World Order) جنم لے رہا ہے جس میں چین، پاکستان اور عرب ممالک کا بلاک مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔ سینیئر صحافی سید عمران شفقت کے پروگرام میں دفاعی و سیاسی تجزیہ کار سعید چوہدری نے سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ خلیج فارس میں قائم امریکہ کے 14 سے زائد فوجی اڈے اب اپنی اہمیت کھو چکے ہیں اور واشنگٹن کے اپنے اتحادی بھی اب اس کی سیکیورٹی چھتری پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔ سب سے بڑی پیش رفت ابنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے حوالے سے سامنے آئی ہے جہاں ماضی میں امریکہ کا مکمل اثر و رسوخ تھا، مگر اب عمان اور ایران نے مل کر اس اسٹریٹجک پٹی کا کنٹرول سنبھالنے اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں پر ‘سیکیورٹی سرچارج’ یا ٹول ٹیکس نافذ کرنے کی تیاری کر لی ہے۔ انٹرنیشنل لاء کے مطابق ابنائے ہرمز کی کل چوڑائی محض 33 کلومیٹر کے قریب ہے جو ایران اور عمان کی سمندری حدود میں آتی ہے، اور دونوں ممالک کے اس اتحاد نے واشنگٹن کے ماتھے پر پسینہ لا دیا ہے۔
دوسری جانب ایران اور امریکہ کے درمیان بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے ایک انتہائی اہم مفاہمت کی یادداشت (MoU) فائنل ہونے کی خبریں ہیں، جس کے تحت ایران اپنے جوہری پروگرام کو ہتھیاروں کی سطح تک نہ لے جانے کی یقین دہانی (جو کہ پہلے ہی رہبرِ اعلیٰ کے فتوے کے مطابق حرام ہے) کے بدلے قطر اور دیگر ممالک میں منجمد اپنے 24 ارب ڈالر کے فنڈز فوری طور پر واگزار کرانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اس صورتحال میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سچویشن روم میں ہنگامی مشاورت اور الرٹ جاری کرنے کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔ ملکی محاذ پر بات کرتے ہوئے تجزیہ کاروں نے واضح کیا کہ پاکستان کا نظام مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے تین ستونوں پر کھڑا ہے، اور این ایف سی ایوارڈ (NFC Award) میں کسی بڑی تبدیلی کے بجائے دفاعی بجٹ کو پہلے ہی منہا کر کے بقیہ رقم صوبوں میں تقسیم کرنے کا نیا فارمولا زیرِ غور ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی اس بدلتی ہوئی جیو پولیٹکس، امریکہ کے مشرقِ وسطیٰ سے ممکنہ انخلا اور پاکستان کی اندرونی صورتحال کی مکمل تفصیلی کہانی جاننے کے لیے سید عمران شفقت کا یہ وی لاگ مکمل دیکھیں۔




